(8) ان بھائیوں میں جو زیادہ صاحب تقویٰ اور ص احب عقل تھا، اپنے دوسرے بھائیوں سے مخاطب ہوا اور کہا میں نے تم سب کو نصیحت کی تھی کہ تم لوگ اپنی بدنیتی سے توبہ کرو، اللہ کی یاد سے غافل نہ بنو اور اس کے حق کو فراموش نہ کرو، اور یاد رکھو کہ اللہ مجرمین سے انتقام لینے پر پوری طرح قادر ہے، چنانچہ سب نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا، اللہ کے حضور تائب ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمارا رب تمام عیوب و نقائص سے پاک ہے، ہم نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے اس کے بعد ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے کہ اگر ہم نے مساکین کو ان کے حق سے محروم کرنے کی بری نیت نہ کی ہوتی اور اللہ کیقدرت کو بھول کر اپنی قدرت کا اظہار نہ کیا ہوتا تو آج یہ دن دیکھنا نہ پڑتا۔ ہائے افسوس کہ ہم غفلت و جہالت میں پڑ کر اللہ کے حدود سے تجاوز کر گئے تھے۔