(1) " ص" حرف مقطع ہے، اللہ کو ہی معلوم ہے کہ اس سے مراد کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کریم کی قسم کھائی ہے جو تمام انسانوں کے لئے اپنے اندر بے شمار پندو نصیحت کی باتیں لئے ہوئے ہے اور بتایا ہے کہ معاملہ ایسا نہیں ہے، جیسا مشرکین سمجھتے ہیں کہ محمد جادوگر، شاعر اور جھوٹے ہیں، بلکہ ان کے کبر و غرور اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کے ساتھ ان کی گہری عداوت نے انہیں افترا پردازویوں پر ابھارا ہے، ورنہ انہیں خوب معلوم ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ جادو گر ہیں، نہ شاعر، نہ آپ کو جنون لاحق ہے اور نہ ہی جھوٹ بولنا آپ کی عادت ہے۔