فهرس الكتاب

الصفحة 4543 من 6343

(18) آیت (27) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہی آسمانوں اور زمین کا مال ہے، اسی نے انہیں پیدا کیا ہے، اور ان میں تصرف کرتا ہے اور جس کی قدرت اور علم و حکمت کا یہ عالم ہو، اس کی اس بات کو کیسے جھٹلایا جاسکتا ہے کہ وہ قیامت کے دن اپنے بندوں کو دوبارہ زندہ کر کے انہیں حساب و جزا کے لئے میدان محشر میں جمع کرے گا۔

اور قیامت کا دن وہ دن ہوگا جب اپنے رب کے ساتھ غیروں کو شریک بنانے والے سب کچھ کھو دیں گے اور جہنم میں ڈال دیئے جائیں اور اے میرے نبی ! آپ اس دن دیکھیں گے کہت مام قومیں اور جماعتیں میدان محشر میں حساب کے وقت نہایت ذلت و مسکنت کے عالم میں اپنے گھٹنوں کے بل جھکے ہوں گے اور ہر جماعت کے سامنے اس کا نامہ اعمال پیش کیا جائے گا، یا ہر جماعت کے سامنے وہ کتاب رکھی جائے گی جو دنیا میں ان کی ہدایت کے لئے بھیجی گئی تھی اور ان سے کہا جائے گا کہ آج تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ چکایا جائے گا اور تمہارا یہ نامہ اعمال تمہیں سب کچھ بتائے دے رہا ہے، دنیا میں تم جو کچھ کرتے رہے، ہم اپنے فرشتوں کے ذریعہ اسے لکھتے رہے۔ ایک ذرہ کے برابر بھی تمہاری نیکی یا بدی کہیں غائب نہیں ہوگئی۔ جن لوگوں نے وہاں ایمان اور عمل صالح کی راہ اختیار کی اور شرک و معاصی سے اجتناب کیا، آج ان کا رب انہیں اپنی رحمت یعنی جنت میں داخل کر دے گا اور کھلی اور صریح کامیابی یہی ہے کہ آدمی ہر خوف و ہراس سے نجات پا جائے اور دائمی فرحت و شادمانی کو پالے۔

اور جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی، اور شر و معاصی کا ارتکاب کیا، ان سے کہا جائے گا: کیا میرے انبیاء تمہارے پاس نہیں آئے، اور کیا میری آیتیں پڑھ کر تمہیں سنائی نہیں گئیں، اور تمہیں اللہ کا خوف نہیں دلایا گیا ؟ ہاں، تمہیں یقیناً میری آیتیں سنائی گئیں، لیکن تم نے استکبار میں آ کر ان کا انکار کردیا، اور تم لوگ تھے ہی بڑے مجرم صفت لوگ، جبھی تو تم نے بندہ ہو کر بندگی کی راہ چھوڑ دی، شیطان کی پیروی کی اور گناہوں کا ارتکاب کیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت