(16) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی اہمیت بیان کی ہے کہ جو لوگ قرآن اور اس میں موجود احکام سے اعراض کرتے ہیں اور اسے چھوڑ کر دیگر گمراہیوں کو اپناتے ہیں، اللہ تعالیٰ بطور عقاب اس کے پیچھے ایک شیطان کو لگا دیتا ہے، جو ہر وقت اسے گمراہ کرتا رہتا ہے تاکہ حق کو قبول نہ کرلے۔ (فھولہ قرین) کا ایک معنی یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ وہ آدمی اس شیطان کا پیرو کار بنج اتا ہے اور تمام امور میں اس کی اتباع کرتا ہے۔
آیت (37) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ شیاطین قرآن سے اعراض کرنے والوں کو راہ حق کی اتباع سے روکتے رہتے ہیں اور ان کے دل میں خیال ڈالتے رہتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں ایک دوسرا معنی یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ کفاران شیاطین کو راہ حق پر سمجھتے ہیں، اسی لئے ان کی پیروی کرتے ہیں۔
آیت (38) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ہمارے سامنے دونوں حاضر ہوں گے، تو قرآن کریم سے منہ پھیرنے والا اپنے شیطان دوست سے کہے گا کہ اے کاش ! میرے اور تمہارے درمیان مشرق و مغرب کی دوری ہوتی، تو تو بڑا ہی برا ثابت ہوا، تو نے ہی مجھے راہ حق سے گمراہ کیا اور کفر و شرک اور ضلالت و گمراہی کو خوبصورت بنا کر پیش کیا جو آج میرے عذاب کا سبب بن گیا ہے۔
آیت (39) میں بتایا گیا کہ اس دن اللہ تعالیٰ ان سے کہے گا کہ دنیا میں اللہ کے ساتھ غیروں کو شریک بنانے کی وجہ سے تم پر آج کے دن کا عذاب واجب ہوگیا ہے، اب کوئی تمنا تمہیں کام نہیں دے گی اور تم سب یعنی تم اور تمہارے شیاطین دوست عذاب جہنم میں برابر کے شریک ہو گے۔