فهرس الكتاب

الصفحة 5930 من 6343

(1) ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی ہلاکت و بربادی کی خبر دی ہے جو ناپ تول میں لوگوں کے ساتھ بے ایمانی کرتے ہیں، ان کے لینے کا پیمانہ اور ہوتا ہے اور دینے کا اور جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پیمانے کو خوب بھرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ناپتول کرتے وقت آدمی کو پورا دینا چاہئے اور جب لوگوں کو دیتے ہیں تو کوشش کرتے ہیں کہ پیمانہ لبالب نہ ہو اور کہتے ہیں کہ یہی صحیح پیمائش ہے۔

حافظ سیوطی نے " الاکلیل" میں لکھا ہے کہ اس آیت کریمہ میں ناپتول میں کمی اور خیانت کی شدید مذمت آئی ہے۔ اس لئے کہ اس کے ذریعہ لوگوں کا مال ناحق کھایا جاتا ہے اور اس مال کی مقدار اگرچہ تھوڑی ہوتی ہے لیکن ایسا کرنے والے کی وناءت و خباثت پر دلالت کرتی ہے اور اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اگر اسے موقع ملتا تو لوگوں کا مال کثیر بھی بطور حرام کھانے سے گریز نہیں کرتا۔ انتہی

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی کئی دیگر آیتوں میں بھی پورے ناپتول کا حکم دیا ہے، سورۃ الاسراء آیت (25) میں آیا ہے: (واوفوا الکیل اذا کلتم وزنوا بالقسطاس المستقیم ذلک خیر و احسن تاویلا) " اور جب ناپنے لگو تو بھرپور پیمانے سے ناپو، اور سیدھے ترازو سے تولا کرو، یہی بہتر ہے، اور انجام کے لحاظ سے بھی بہت اچھا ہے" اور سورۃ الرحمٰن آیت (9) میں آیا ہے: (واقیموالوزن بالقسط ولاتخسروا المیزان) " اور انصاف کے ساتھ وزن کو ٹھیک رکھو، اور تول میں کمی نہ دو" اور شعیب (علیہ السلام) کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے اسی گناہ کے سبب ہلاک کردیا کہ وہ لوگ ناپتول میں لوگوں کے ساتھ خیانت کرتے تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت