(3) نبی کریم کو خطاب کر کے کفار مکہ کو تنبیہ کی جارہی ہے اور انہیں دھمکی دی جارہی ہے کہ وہ جانوروں کے مانند خوب کھائیں پئیں، خوب مزے کریں، اپنی شہوتوں کو پوری کریں اور ان کی جھوٹی امید کہ ان کا انجام بخیر ہوگا، انہیں توبہ و استغفار اور زکر الہی سے غال بنائے رکھے، وہ عنقریب قیامت کے دن اپنے برے انجام کو پہنچ جائیں گے اور جہنم ان کا ٹھکانا ہوگا۔