فهرس الكتاب

الصفحة 5523 من 6343

(3) جنوں نے اپنی قوم کے افراد سے یہ بھی بتایا کہ اسلام آنے سے پہلے انسانوں میں سے کچھ لوگ، جنوں کے کچھ افراد کے ذریعہ پناہ مانگتے تھے اور ان جنوں کے گناہ اور اللہ سے ان کی سرکشی میں اضافہ کردیتے تھے۔

ابن جریر نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں عض آدمی جب کسی وادی میں رات گذارتے تو کہتے: میں اس وادی کے زبردست جن کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں تو یہ چیز جنوں کے گناہ اور اللہ سے ان کی سرکشی میں اضافہ کردیتی تھی اور ابن مردویہ نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں جب لوگ کسی وادی میں پڑاؤ ڈالتے تو کہتے کہ ہم اس وادی کے سردار کے ذریعہ اس میں موجود برائی سے پناہم انگتے ہیں، تو ان کی یہ بات جنوں کو بہت زیادہ پسند آتی۔ انتہی

آیت کریمہ میں زمانہ جاہلیت کے اسی اعتقاد کی طرف اشارہ ہے کہ وادیاں جنوں کے رہنے کی جگہیں ہیں اور ان کے سردار ان ان میں پڑاؤ ڈالنے والوں کو دیگر جنوں سے بچات ہیں۔

ابن زید کہتے ہیں کہ اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں جب کوئی آدمی کسی وادی میں پڑاؤ ڈالتا تو کہتا: میں اس وادی کے سردار کے ذریعہ پناہ مانگتا ہوں جب اسلام آگیا تو لوگ اللہ کے ذریعہ پناہ مانگنے لگے اور جنوں کو چھوڑ دیا۔

امام مسلم نے " کتاب الذکر و الدعاء" میں خولہ بنت حکیم کا قول نقل کیا ہے کہ جو شخص کسی جگہ پڑاؤ ڈالے تو کہے:" اعوذ بکلمات اللہ التامات من شرما خلق" " میں اللہ کے کلمات تامہ کے ذریعہ اس کی مخلوقات کے شر سے پناہ مانگتا ہوں' تو اس سے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی، یہاں تک کہ وہ وہاں سے کوچ کر جائے۔

اس حدیث سے مذکورہ بالا آیت کریمہ کی تفسیر پر رونشی پڑتی ہے کہ انسانوں کا جنوں کے ذریعہ پناہ مانگنا شرک ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت