(28) اوپر کی آیتوں میں عیسیٰ (علیہ السلام) کا صحیح مقام بیان کیا گیا ہے، اسی کے تکملہ کے طور پر کہا جا رہا ہے کہ جب وہ بنی اسرائیل کے پاس انجیل اور دیگر معجزات لے کر گئے، تو انہیں خبر دی کہ میں تمہارے لئے نبی بنا کر اور حکمت کا خزانہ دے کر بھیجا گیا ہوں، تاکہ تمہیں حکمت کی وہ باتیں سکھاؤ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد دین کے جن احکام میں تمہارے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا، ان میں حق کو واضح کروں اس لئے بنی اسرائیل کے لوگو ! اللہ کی نافرمانی سے ڈرو اور توحید باری تعالیٰ اور احکام شریعت سے متعلق جو باتیں میں تمہیں بتاتا ہوں انہیں قبول کرو بے شک میرا اور تمہارا رب اللہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس لئے تم سب صرف اسی کی عبادت کرو یہی سیدھی راہ ہے۔
عیسیٰ (علیہ السلام) کا یہی صحیح مقام تھا کہ وہ اللہ کے بندے اور رسول تھے اور بنی اسرائیل کے پاس دعوت توحید لے کر آئے تھے، انہوں نے لوگوں کو اپنی بندگی کی ہرگز دعوت نہیں دی تھی۔