(2) ان آیات کر یمہ میں اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا بری صفت کے ساتھ متصف لوگوں کو دھمکی دی ہے کہ کیا انہیں اس کا یقین نہیں ہے کہ اپنی قبروں سے زندہ اٹھائے جائیں گے اور قیامت کے خطرناک اور مہیب دن میں تمام لوگوں کیساتھ رب العالمین کے سامنے نہایت ہی ذلت و انکساری کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور اپنے بارے میں اس کے فیصلے کا انتظار کریں گے۔
مفسرین لکھتے ہیں کہ ناپتول میں خیانت کی شناخت بیان کرنے کے بعد ان آیتوں کے لانے سے مقصود اس گناہ سے ممانعت میں مبالغہ اور اس کی خطرناکی بیان کرنا ہے۔