فهرس الكتاب

الصفحة 2449 من 6343

(31) فرعون کی ہلاکت کے بعد جب موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر آگے بڑھے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنی قوم کو لے کر جبل طور کے پاس جائیں اور وہاں چالیس دان اور رات کا کا روزہ رکھیں، تاکہ اللہ انہیں تورات عطا کرے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے ہم کلام ہونے کے شوق میں عجلت سے کاملیا اور اکیلے کوہ طور کی طرف روانہ ہوگئے، اور اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو کہا کہ وہ بنی اسرائیل کو لے کر اطمینان سے آئیں، ان کی روانگی کے بعد سامری نے بنی اسرائیل کو فتنہ میں ڈال دیا، اس نے فرعونیوں کے چھوڑے ہوئے زیورات سے ایک بچھڑا بنایا، اور اس میں جبریل (علیہ السلام) کے گھوڑے کے کھر کے نیچے کی ایک مٹھی مٹی ڈال دی جس کی وجہ سے اس سے ایک آواز نکلنے لگی، اور بنی اسرائیل اس سے متاثر ہو کر اس کی عبادت کرنے لگے، اور موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس نہیں گئے، جب چالیس دن کی مدت پوری ہوگئی تو اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی بنی اسرائیل کی گمراہی کی خبر دی۔

اس آیت کریمہ میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے، اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی عجلت پر عتاب ہے کہ آپ نے بنی اسرائیل کو چھوڑ کر تنہا آنے کی کیوں عجلت کی جبکہ آپ کو حکم یہ تھا کہ انہیں ساتھ لے کر آتے؟ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ وہ لوگ میرے پیچھے آرہے ہیں، اور میں نے شدت شوق میں جلدی کی تھی تاکہ تیرے حکم کی بجا آوری میں مجھ سے ذرا بھی تاخیر نہ ہو، اور تو مجھ سے راضی ہوجائے، تب اللہ نے انہیں بتایا کہ ہم نے آپ کی روانگی کے بعد آپ کی قوم کو آزمائش میں ڈال دیا ہے، اور سامری نے انہیں گمراہ کردیا ہے، یہ سن کر موسیٰ (علیہ السلام) بہت ہی ناراض ہوگئے اور بنی اسرائیل کے حال پر کف افسوس ملنے لگے، اور واپس آکر ان سے باز پرس ہوئے اور انہیں اللہ کا وعدہ یاد دلایا کہ اس نے تو مجھے کوہ طور کے اس پاس لیے بلایا تھا کہ تمہیں تورات دے، لیکن تم احسان فراموش نکلنے، اور چند دن بھی میرا انتظار نہ کرسکے، اور مجھ سے عقیدہ توحید پر ثابت قدمی کا جو وعدہ کیا تھا اس کی خلاف ورزی کر کے اللہ کے غضب کو دعوت دے دی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت