(5) آیات (3، 4) میں ان جاہل گمراہوں کا حال بیان کیا گیا ہے جو خود تو علم نہیں رکھتے بلکہ دوسرے گمران کن علم کے دعویداروں کے پیچھے لگ جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھوٹی اور بے بنیاد باتیں کرتے ہیں، اس آیت کے بارے میں مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ ابو جہل کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو کفر اور کبر و نخوت کا مجسم نمونہ تھا اور لوگوں کو راہ حق سے دور رکھنے کی ہر کوشش کرتا تھا لیکن آیت کا مفہوم عام ہے اور کفر و بدعت کے تمام گمراہ کن سرغنوں کو شامل ہے جو اپنی خواہش کی اتباع میں اللہ اور رسول کے بارے میں ایسی باتیں کرتے ہیں جن کی عقل صحیح یا نقل صریح سے کوئی دلیل نہیں ملتی اور ایسے متکرب ہوتے ہیں کہ گردن اکڑا کر اور لوگوں کی طرف سے منہ پھیر کر چلتے ہیں، اور ان کا مقصد اللہ کے بندوں کو گمراہ کرنا ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ایسے تمام لوگوں کا انجام یہ بتایا کہ وہ انہیں دنیا میں رسوا کرتا ہے اور آخرت میں جہنم ان کا انتظار کر رہی ہے، اور اس دن ان سے کہا جائے گا کہ یہ ذلت و رسوائی اور یہ عذاب تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہے، اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا ہے۔
بعض مفسرین کا خیال ہے کہ دونوں آیتوں میں ایک ہی قسم کے لوگ مراد ہیں، اور تکرار سے مقصود ایسے لوگوں کی مزید برائی بیان کرنی ہے، اس لئیے کہ دوسری آیت میں ان کافروں کے بارے میں مزید یہ کہا گیا ہے کہ ان کے پاس اپنے دعوی کی صداقت پر نہ کوئی عملی دلیل ہے، نہ عقلی، اور نہ ہی قرآن کریم کی کوئی آیت ہی ان کے قول کی تائید کرتی ہے۔