فهرس الكتاب

الصفحة 2391 من 6343

(12) جب انہیں فرعون کے سامنے دعوت توحید رکھنے کا حکم ملا تو سوچا کہ ان کے سر ایک عظیم ذمہ داری ڈال دی گئی ہے۔ ایک طرف بحیثیت انسان انہیں اپنی کم مائیگی اور بے سروسامانی یاد آرہی تھی تو دوسری طرف فرعون جیسے عظیم شاہ مصر کی قوت و جبروت اور اس کا جاہ وجلال ان کی آنکھوں میں گھوم رہا تھا، اور اس کے کبر و غرور اور کفر و سرکشی کا عالم یہ تھا کہ اس نے اللہ کا انکار کردیا تھا اور خود معبود ہونے کا دعوی کر بیٹھا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی پیغامبری کے لیے چن لیا تھا اور انہیں بہرحال یہ کام کرنا تھا، اسی لیے انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ ! میرا سینہ کھول دے اور مجھ پر جو ذمہ داری ڈالی ہے اسے آسان کردے، اس لیے کہ تیری نصرت و اعانت کے بغیر اتنی بڑی ذمہ داری میرے ناتواں کندھے برداشت نہیں کرسکیں گے۔ اور میری زبان کی لکنت کو دور کردے تاکہ میں جب فرعونیوں کے سامنے تیری دعوت پیش کروں تو وہ میری بات سمجھ سکیں۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ بچپن میں انہوں نے اپنے منہ میں چنگاڑی ڈال لی تھی جس کی وجہ سے ان کی زبان میں لکنت پیدا ہوگئی تھی۔ جب رسالت کی ذمہ داری ان کے سر آئی تو سوچا کہ اس کام کے لیے فصیح اور قادر الکلام آدمی کی ضرورت ہے، اسی لیے انہوں نے اپنے رب سے دعا کی تو وہ لکنت جاتی رہی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس دعا کے جواب میں فرمایا ہے: (قد اوتیت سولک یاموسی) اے موسیٰ ! آپ کی مانگ پوری کی گئی۔ اور جو انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ ! میرے بھائی ہارون کو بھی اس ذمہ داری کے اٹھانے میں میرا شریک بنا دے، کیونکہ وہ مجھ سے زیادہ فصیح و بلیغ تقریر کرسکتے ہیں تو یہ امر اس بات سے ہرگز مانع نہیں کہ ان کی لکنت جاتی رہی، لکنت نہ ہونے کے باوجود بھی ایک آدمی دوسروں کے مقابلے میں کم فصیح ہوسکتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت