(15) اس لئے اے میرے نبی ! آپ اپنی دعوت کے ساتھ آگے بڑھتے رہئے، ان کے کبر و عناد اور ان کی تکذیب کی پرواہ نہ کیجیے اور مچھلی والے یونس بن متی کی طرح نہ ہوجایئے جنہوں نے اپنی قوم کی اذیتوں سے تنگ آ کر صبر کا دامن چھوڑدیا تھا اور انہیں چھوڑ کر وہاں سے رخصت ہوگئے تھے اور جب مچھلی نے انہیں نگل لیا اور حزب و ملال سے ان کا دل بھر آیا، تو مچھلی کے پیٹ میں ہی انہوں نے اپنے رب کو پکارا اور کہا: (لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظلامین) " میرے رب ! ترییس وا کوئی معبود نہیں، تو ہر عیب و نقص سے پاک ہے اور بے شک میں اپنے آپ پر ظلم کرنے والا تھا" تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کرلی اور ان پر رحم کرتے ہوئے مچھلی کو حکم دیا کہ وہ انہیں ساحل سمندر پر اگل دے، چنانچہ مچھلی نے ایسا ہی کیوں، درانحالیک وہ اپنے رب کے مقبول و محمو بندہ تھے، اگر اللہ کی رحمت ان کے شامل حال نہ ہوتی، اور اللہ ان کی توبہ قبول نہ کرتا تو مچھلی انہیں کسی ویران جگہ پر پھینک آتی ہے، درانحالیکہ ہو اپنی غلطی کی وج سے لائق سر زنش اور مذموم ہوتے۔