فهرس الكتاب

الصفحة 3332 من 6343

(26) مذکورہ بالا گروہ یہودی ونصاری سے مراداہل کتاب ہیں جنہوں نے رسول اللہ کا زمانہ پایا اور ان پر قرآن کریم پر ایمان لائے جیسے عبداللہ بن سلام اور سلمان فارسی وغیرہ ان کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ انہیں دوگنا اجر ملے گا ایک اجراسلام سے قبل تورات وانجیل پر ایمان لانے اور ان پر عمل کرنے کا اور دوسرا اجر قرآن اور نبی پر ایمان لانے اور سلام پر عمل پیرا ہونے کا۔ بخاری ومسلم نے ابوموسی اشعری (رض) سے روایت کی ہے نبی کریم نے فرمایا کہ تین قسم کے لوگوں کو دوگنا اجرملے گا ان میں سے ایک اہلکتاب کا وہ شخص ہوگا جو اپنی پہلی کتاب پر اور پھر قرآن پر ایمان لایا۔ ان مومنین اہل کتاب کی صفات یہ بھی ہیں کہ وہ برائی کا جواب بھلائی سے دیتے ہیں یا گناہ کے بعد توبہ واستغفار اور نیک عمل کرتے ہیں اور اللہ نے انہیں جو روزی دی ہے اس کا ایک حصہ بھلائی کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور محروموں اور محتاجوں کی مدد کرتے ہیں اور جب کسی جاہل ونادان کی زبان سے کوئی بے ہودہ اور لغو بات سنتے ہیں تو اس سے نہ الجھتے ہیں اور نہ اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں بلکہ خاموشی کے ساتھ وہاں سے اپنے دل میں یہ کہتے ہوئے گذر جاتے ہیں کہ ہمیں ہمارے عمل کا اور انہیں ان کے عمل کا بدلہ ملے گا، ہم نہ انہیں چھیڑیں گے اور نہ ان کی بات کا جواب دیں گے، اس لیے کہ ہم نادانوں کے ساتھ الجھنا نہیں چاہتے سعید بن جبیر اور زہری وغیرہما سے مروی ہے یہ آیتیں حبشہ کے ان انصار کے بارے میں نازل ہوئی تھیں جنہوں نے رسول اللہ کے پاس مکہ میں آکر اسلام قبول کیا تھا اور کافروں کے طنز اور بری باتوں کا جواب نہیں دیا تھا

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت