فهرس الكتاب

الصفحة 4694 من 6343

(10) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بعض قدرتوں کا ذکر فرمایا ہے، باری تعالیٰ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا ہے اور اس کا علم اس کے تمام امور کو محیط ہے، یہاں تک کہ وہ ان باتوں کو بھی جانتا ہے جن کا اس کے دل میں کھٹکا ہوتا ہے اور وہ اپنے بندے سے شہ رگ سے زیادہ قریب ہے، وہ اس کے تمام احوال سے بغیر فرشتوں کے واسطہ کے غایت درجہ باخبر ہے، اس کے ساتھ فرشتوں کا پایا جانا اور ان کے ذریعہ اس کے اعمال کا ریکارڈ میں لایا جانا محض اتمام حجت کے لئے ہے۔ حسن، قتادہ اور مجاہد کہتے ہیں: ہر انسان کے ساتھ اللہ نے دو فرشتے لگا دیئے ہیں جو اس کے دائیں اور بائیں ہوتے ہیں اور اس کے حسنات و سئیات کو لکھتے رہتے ہیں۔ مجاہد کا ایک دوسرا قول ہے کہ " اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے ساتھ دورات کے اور دو دن کے فرشتے لگا دیئے ہیں، جو اس کے اعمال کو لکھتے رہتے ہیں۔ "

انسان جونہی اپنی زبان سے کوئی بات نکالتا ہے، اس پر تمعین فرشتے فوراً اسے اس کے نامہ اعمال میں لکھ لیتے ہیں، دائیں طرف کا فرشتہ اس کے نیک اعمال کو، اور بائیں طرف کا اس کے برے اعمال کو درج کرل یتا ہے اور وہ فرشتے انتہائی چوکنا اور ہر آن تیار رہتے ہیں، اپنی ذمہ داری سے کبھی غافل نہیں ہوتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت