فهرس الكتاب

الصفحة 2695 من 6343

1۔ اللہ تعالیٰ نے پہلی آیت سے آیت (11) تک مومنوں کی وہ صفات بیان کی ہیں جن سے متصف ہونے کی صورت میں ان سے فلاح اور کامیابی کا وعدہ کیا گیا ہے، اور اس فلاح سے مراد جہنم سے نجات اور حصول جنت ہے، جیسا کہ اس کی صراحت آیت (11) میں آگئی ہے، سورۃ آل عمران آیت (185) میں بھی اصل کامیابی جہنم سے نجات اور حصول جنت کو بتایا گیا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: (فمن زحزح عن النار وادخل الجنۃ فقد فاز) جو شخص جہنم سے دور کردیا گیا اور جن میں داخل کردیا گیا وہ کامیاب ہوگیا۔

وہ صٖفات مندرجہ ذیل ہیں:

پہلی صفت یہ ہے کہ وہ مومنین اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں، یعنی سکون و اطمینان کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں، ادھر ادھر نہیں جھانکتے ہیں ان کے دلوں پر رقت طاری ہوتی ہے اور بسا اوقات اللہ کے خوف سے ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوتا ہے، نماز میں خشوع کی اسی اہمیت کے پیش نظر بعض علماء نے اسے فرض قرار دیا ہے، اللہ تعالیٰ نے سورۃ طہ آیت (14) میں فرمایا ہے: (واقم الصلوۃ لذکری) میرے نبی ! مجھے یاد کرنے کے لیے نماز قائم کیجیے۔ اس لیے اگر کوئی شخص نماز میں خشوع نہیں اختیار کرتا ہے بلکہ اس کا دل غافل رہتا ہے تو اس نے نماز کی غرض و غایت پوری نہیں کی۔

دوسری صٖت یہ ہے کہ وہ ہر ایسی فکر اور ہر ایسے قول و عمل سے اعراض کرتے ہیں جس کی اللہ کی طرف سے اجازت نہ ہو، ان کی زندگی میں بیہودہ باتوں اور ناروا کاموں کے لیے فراغ نہیں ہوتا ہے۔

تیسری صٖت یہ ہے کہ وہ اپنے اموال کی زکوۃ ادا کرتے ہیں، بعض لوگوں نے اس سے شرک اور دوسرے معاصی سے نفس کی پاکی مراد لی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الشمس آیت (9) میں فرمایا ہے: (قد افلح من زکاھا) جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کیا وہ کامیاب ہوگیا۔ حافظ ابن کثیر کہتے ہیں ہوسکتا ہے کہ دونوں ہی معنی مراد ہو، یعنی وہ لوگ زکاۃ ادا کرتے ہیں اور اپنے نفس کو شرک اور گناہوں سے پاک رکھتے ہیں۔

چوتھی صٖت یہ ہے کہ وہ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، یعنی وہ نہ ننگے ہوتے ہیں اور نہ حرام طریقوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ صرف اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے پاس جاتے ہیں، ایسا کرنے سے وہ قابل ملامت نہیں ہیں، اس لیے کہ اللہ نے ان کے لیے اسے جائز قرار دیا ہے، اور فعل زنا کی شدت قباحت کو واضح کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا کہ جو لوگ حلال کی حدوں کو پھلانگنے کی کوشش کریں گے وہ اللہ کی نگاہ میں ظالم ہوں گے۔

یہاں پر قابل توجہ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندے کی فلاح و کامیابی کو شرمگاہ کی حفاظت کے ساتھ مشروط کردیا ہے، اور اس کی غایت درجہ اہمیت ظاہر کرنے کے لیے کہا کہ جو اپنی شرمگاہ کی حفاظت نہیں کرے گا فلاح نہیں پائے، گا، اور قابل ملامت ہوگا، نیز ظالموں میں سے ہوگا، اور عفت و پاکدامنی کی شدید اہمیت کے پیش نظر ہی اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو نگاہیں نیچی رکھنے اور شرمگاہ کی حفاظت کا حکم دیا ہے۔

پانچویں صفت یہ ہے کہ وہ لوگ امانتوں اور عہود و مواثیق کی حفاظت کرتے ہیں، چاہے وہ امانتیں اللہ کی ہوں یا بندوں کی، اور چاہے وہ عہود اللہ کے ساتھ ہوں یا بندوں کے ساتھ۔

چھٹی صفت یہ ہے کہ وہ لوگ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں، یعنی پانچوں فرض نمازیں وقت پر باجماعت ادا کرتے ہیں، شروط طہارت کو پوری کرتے ہیں، رکوع اور سجدے میں عجلت نہیں کرتے ہیں اور نماز کے دیگر سنن و آداب کا بھی لحاظ رکھتے ہیں۔

یہی وہ چھ صٖفات ہیں جو کسی انسان میں پائی جاتی ہیں تو وہ مومن کامل ہوتا ہے، کامیاب و کامران بنتا ہے اور فردوس بریں کا حقدار ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں انہی میں سے بنائے۔ آمین

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت