(25) اس آیت کریمہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی کفار قریش کو دھمکی دی گئی ہے کہ تم لوگ دعوت حق سے جس بغض و عداوت کا معاملہ کر رہے ہو، اسی پر بای رہو، میں بھی ایمان و توحید اور اللہ کی طاعت و بندگی پر قائم رہتا ہوں، تمہیں عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ دنیا میں رسوا کن عذاب کسے آلیتا ہے اور جہنم کا دائمی عذاب کس کا ٹھکانا ہوگا۔
چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ میدان بدر میں اللہ نے انہیں ذلیل و خوار کیا اکثر و بیشتر متکبرین قریش مارے گئے اور ان کی لاشوں کو ایک کنوئیں کے اندر ڈال دیا یا اور جو بچ گئے انہیں پابند سلاسل کر کے مدینہ لے جایا گیا۔