(45) اللہ تعالیٰ نے یہاں انسانوں کی ایک دوسری حالت بیان کر کے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کی نکیر کی ہے، کہ اس نے انہی کے جنس سے اور انہی کی شکل و صورت کی ان کی بیویاں بنائیں تاکہ ان کے درمیان انس و محبت پیدا ہو، اور پھر ان بیویوں سے لڑکے، لڑکیاں، پورتے اور نواسے پیدا کیے جو ان کی آنکھوں کا نور اور دل کا سرور ہوتے ہیں، اور ان کی خدمت کے لیے ہمہ دم ان کے اشارے کے منتظر رہتے ہیں، اور اس پر مستزاد یہ کہ اس نے انہیں کھانے اور پینے کے لیے عمدہ روزی عطا کی، لیکن مشرکوں کے کفران نعمت کا حال یہ ہے کہ وہ ان تمام نعمتوں کو اپنے بتوں کی طرف منسوب کرتے ہیں، اور اللہ کے سوا ان معبودوں کی پرستش کرتے ہیں جو ان کی روزی کے مالک نہیں ہیں۔ چونکہ اس سے بڑھ کر احسان فراموشی نہیں ہوسکتی کہ آدمی کھائے کسی کا اور گائے کسی کا، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے آدم کے بیٹو ! کسی کو اللہ کا شریک نہ بناؤ، اور اس کے لیے مثالیں نہ بیان کرو کہ جس طرح وزیر امیر کے دربار میں لوگوں کی سفارش کرتا ہے، اسی طرح تمہارے یہ جھوٹے معبود اللہ کے دربار میں تمہاری سفارش کریں گے، تمہارے یہ مشرکانہ اعمال کس قدر قبیح اور برے ہیں اس کا علم صرف اللہ کو ہے، تمہیں کچھ بھی معلوم نہیں، اگر تمہیں اس کا صحیح اندازہ ہوجاتا ہے تو ان کے ارتکاب کی جرات نہ کرتے۔