(17) قرآن کے معہود طریقہ کے مطابق اب اہل جنت اور جنت میں پائی جانے والی نعمتوں کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دنیا کی زندگی میں کفر و معاصی سے بچنے والے قیامت کے دن اس مقام پر ہوں گے جہاں انہیں کوئی خوف و ہراس لاحق نہیں ہوگا، وہ باغوں میں اور بہتے چشموں کے درمیان ہوں گے۔ وہاں انہیں پہننے کے لئے باریک اور دبیز ریشمی لباس ملے گا اور ان کے کمروں اور منازل کی ایسی ترتیب ہوگی کہ وہ ہر دم ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے۔ اللہ نے کہا کہ جنتیوں کے ساتھ بالکل ویسا ہی برتاؤ ہوگا جیسا ہم نے اوپر بیان کیا ہے اور ہم ان کی شادیاں گوری چٹی خوبصورت ترین آنکھوں والی حوروں سے کریں گے، تاکہ ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک اور ان کے دلوں کو سرور ملے اور اہل جنت ان جنتوں میں ہر آفت و مصیبت سے مامون ہوں گے اور اپنی پسند کے نوع بہ نوع پھل حاضر کرنے کا غلمان جنت کو حکم دیا کریں گے انہیں کبھی موت نہیں آئے گی، اور اللہ تعالیٰ انہیں ہمیشہ کے لئے جہنم کے عذاب سے نجات دے دے گا۔ مفسرین لکھتے ہیں: آیت (56) کا آخری حصہ اس بات کی دلیل ہے کہ ممکن ہے غیر متقی موحدین کچھ عذاب بھگتنے کیب عد جنت میں داخل ہوں، البتہ متقی موحدین جہنم میں بالکل داخل نہیں ہوں گے۔
(صحیحین کی روایت ہے، رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ موت کو ایک میڈھے کی شکل میں لا کر جنت اور جہنم کے درمیان ذبح کردیا جائے گا، پھر کہا جائے گا، اے اہل جنت ! اب تم ہمیشہ یہیں رہو گے، کبھی موت نہیں آئے گی، اور اے اہل جہنم ! اب تم ہمیشہ جہنم میں ہی رہو گے، تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی اور مسلم نے ابو سعید اور ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:" اہل جنت سے کہا جائے گا، تم اب ہمیشہ صحت مند رہو گے کبھی بیمار نہیں ہو گے، اور تم ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی نہیں مرو گے، اور تم ہمیشہ خوش و خرم رہو گے کبھی رنجیدہ نہیں ہو گے، اور تم ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہیں ہو گے۔ "