(5) چونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے کلام کے خلاف ولید بن مغیرہ کی بات بہت بڑی افترا پردازی تھی، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں یہاں اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دی کہ وہ قیامت کے دن بہت شدید عذاب کا مستحق ہوگا، میں اسے جہنم میں جلاؤں گا اور اے میرے نبی ! آپ کو کیا معلوم کہ جہنم کسے کہتے ہیں، یہ تو ایسی خطرناک وہیبت ناک آگ ہے جو نہ گوشت کو چھوڑے گی اور نہ پٹھے اور ہڈی کو، جہنمی کے جسم کے ہر عضو کو جلا کر خاکستر اور چمڑے کو سیاہ بنا دے گی۔
" لواحۃ للبشر" کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جہنم کافر انسانوں کو جلائے گی، اور انہیں شدید دائمی عذاب میں مبتلا رکھے گی اور جہنم پر انیس فرشتے بطور داروغہ مقرر ہیں جو نہایت سخت دل اور بے رحم ہیں، انہیں اللہ کی طرف سے جو حکم ملتا ہے اس کی تعمیل میں ذرا بھی تاخیر نہیں کرتے اور نہ اس میں کوئی کمی کرتے ہیں۔