(4) ان آیات کا تعلق بھی اوپر کی آیات سے ہے اور مفہوم یہ ہے کہ وہ بندہ مومن اپنا جو مال بھی خرچ کرتا ہے وہ محض اپنے رب کی رضا کے لئے کرتا ہے ایسا نہیں کہ کوئی شخص اس پر احسان کئے ہوتا ہے جس کا بدلہ چکانے کے لئے وہ اسے اپنا مال دیتا ہے اور جب بات ایسی ہے کہ وہ محض اپنے رب کیرضا کے لئے خرچ کرتا ہے تو اسے اپنے رب کی طرف سے ایسا بدلہ ملے گا جس سے وہ خوش ہوجائے گا، یعنی رب العالمین اسے جنت میں داخل کر دے گا۔
یہ بات ابوبکر صدیق (رض) پر پورے طور پر صادق آتی تھی، جیسا کہ ان کے بارے میں تفسیر ابن کثیر کی عبارت کا ترجمہپ یش کیا گیا اور چونکہ قرآن کریم میں عموم لفظ کا اعتبار ہوتا ہے نہ کہ خصوص سبب کا، اس لئے جس مرد مومن کے اندر بھی وہ صفات پائی جائیں گی جن کا ذکر آیات (17) سے (21) تک میں آیا ہے، وہ اس خوشخبری کا مستحق ہوگا جو ان آیات میں دی گئی ہے۔، یعنی جہنم کی بھڑکتی آگ سے دور کردیا جائے گا۔