فهرس الكتاب

الصفحة 1939 من 6343

(15) مفسرین نے لکھا ہے کہ اس کا قائل نضر بن حارث تھا، جو قرآن کریم کا مذاق اڑانے کے لیے مسلمانوں سے ایسی باتیں کرتا تھا، دوسرا قول یہ ہے کہ اس کے قائل وہ مشرکین مکہ ہیں جو باہر سے اسلام کی حقیقت معلوم کرنے کے لیے آنے والوں سے کہتے تھے کہ یہ قرآن اگلے زمانے کے واقعات کا مجموعہ ہے، اور تیسرا قول یہ ہے کہ مسلمان جب قرآن کریم کے بارے میں مشرکین مکہ کی رائے معلوم کرتے تو وہ کہتے کہ یہ تو گزشتہ قوموں کی کہانیوں کا مجموعہ ہے، اللہ تعالیٰ نے ایسے تمام لوگوں کا انجام یہ بتایا کہ وہ قیامت کے دن اپنے کندھوں پر اپنے سارے گناہ اٹھائے ہوئے ہوں گے، اور ان لوگوں کے گناہ بھی اٹھائے ہوں گے جن کو وہ اپنی جہالت و نادانی کی وجہ سے گمراہ کرتے رہے تھے، یا جنہیں وہ ان کی جہالت و نادانی کی وجہ سے گمراہ کرتے رہے تھے، جن گناہوں کو وہ ڈھوئے پھر رہے ہوں گے وہ بڑی ہی بری چیز ہوگی، جو انہیں جہنم رسید کردے گی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت