فهرس الكتاب

الصفحة 4630 من 6343

(1) جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے، یہاں " فتح" سے مراد " صلح حدیبیہ" ہے، امام بخاری نے براء بن عازب (رض) کا قول نقل کیا ہے کہ " ہم لوگ یوم حدیبیہ کی بیعت رضوان کو فتح کہتے ہیں" امام احمد ابوداؤ د اور حاکم وغیرہم نے مجمع بن جاریہ انصاری (رض) سے روایت کی ہے کہ جب حدیبیہ سے واپسی کے وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے " کراع الغمیم" نامی مقام پر (انا فتحنالک فتحامبینا) کی تلاوت کی تو ایک صحابی نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ یہ " فتح" ہے؟" تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:" ہاں ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ " فتح" ہے۔ "

اور یہ صلح درحقیقت " فتح" کیسے تھی؟ اس کے اسباب و وجوہ اوپر بیان کئے جا چکے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت