(7) جن اہل تقویٰ اور اہل خیر کے نامہ ہائے اعمال " مقام علیین" میں ہوں گے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انہیں نعمتوں والی جنت میں جگہ دے گا اور گاؤ تکیوں پر ٹیک لگائے آرام کریں گے اور ان کا رب انہیں جن نعمتوں سے نوازے گا اور جو عزت بخشے گا اس کے بارے میں سوچس وچ کر دل ہی دل میں نہایت خوش ہوں گے اور ان بیش بہا نعمتوں کی وجہ سے خوشی کے آثار ان کے چہروں پر عیاں ہوں گے اور انہیں خالص شراب پلائی جائے گی جس میں ت لچھت کا نام و نشان تک نہیں ہوگا اور وہ شراب خالص ایسے برتنوں میں ہوگی جو سربمہر ہوں گے، یعنی پہلے سے اسے کسی نے ہاتھ نہیں لگایا ہوگا اور وہ مہر مشک کے ذریعہ لگائی گئی ہوگی، اس مٹی کی مانند جس کے ذریعہش یشوں اور برتنوں کو سربمہر کیا جاتا ے، یعنی وہ مشک اتناتنازہ اور نم ہوگا کہ وہ مہر کے اثر کو قبول کرلے گا۔ بعض مفسرین نے (ختامہ مسک) کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ جنتی جب اس شراب طہور سے لذت کام و دہن حاصل کریں گے تو آخر میں مشک کی نہایت عمدہ خوشبو محسوس کریں گے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی ان نعمتوں کو حاصل کرنا چاہتے ہیں انہیں اس کی طاعت و بندگی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرنی چاہئے، یہی تو وہ نعمتیں ہیں جن کے حصول کے لئے آدمی کو پوری جانفشانی اور محنت کرنی چاہئے۔