فهرس الكتاب

الصفحة 2036 من 6343

(75) مشرکین مکہ کہتے تھے کہ وہ اپنے جد اعلی ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہیں جنہوں نے اللہ کا گھر بنایا تھا، حج کے اعمال بیان کیے تھے اور خانہ کعبہ اور اس کے ارد گرد کے علاقے کو حرم قرار دیا تھا، یہود و نصاری بھی دعوی کرتے تھے کہ وہ لوگ بھی ملت ابراہیمی کے پیروکار ہیں اور سب نے دین اسلام کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا جو فی الحقیقت وہی دین ہے جسے ابراہیم (علیہ السلام) لے کر آئے تھے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کی روحانی اور دینی زندگی کو بیان کر کے مشرکین اور یہود و نصاری کو آئینہ دکھایا ہے، تاکہ ان میں سے ہر جماعت اپنا چہرہ دیکھ کر پہچانے کہ کیا وہ واقعی دین ابراہیمی پر قائم ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ابراہیم ایک صالح، تمام خوبیوں کے مالک اور لائق اقتدا امام تھے، اور وہ اپنے رب کے بڑے ہی فرمانربدار تھے، اور اللہ کے ساتھ غیروں کو شریک نہیں بناتے تھے، اور اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے، یعنی اس کی رضا کے کاموں میں ان نعمتوں کا استعمال کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی رسالت ور اپنی دوستی کے لیے چن لیا تھا، اس لیے کہ جب انہوں نے ہر چیز سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے محبت کی تو ان کے دل میں اس کی محبت پیوست کرگئی اور کسی دوسرے کی محبت کے لیے اس میں جگہ باقی نہ رہی، اور اللہ نے ان کی سیدھی راہ یعنی دین اسلام کی طرف رہنمائی کی، اور دنیا میں انہیں اچھائی دی یعنی ان کا ذکر جمیل تمام اہل ادیان کی زبانوں پر ہمشیہ کے لیے ثبت ہوگیا، اور آخرت میں وہ صالحین کی جماعت کے ساتھ جنت میں اعلی مقام پر فائز ہوں گے۔ اور نبی کریم کی جلالت قدرو منزلت کے باوجود اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ ابراہیم کی ملت کی پیروی کریں جو اللہ کی خاطر تمام مشرکین سے الگ ہوگئے تھے، معلوم ہوا کہ ابراہیم کی طرف اپنی نسبت کرنے کے حقدار مشرکین اور یہود و نصاری نہیں بلکہ موحد مسلمان ہیں، جنہوں نے تمام باطل معبودوں کو ٹھکرا کر صرف ایک اللہ کی بندگی کو اپنا لیا، اور جنہوں نے اپنی عبادت اور اپنا جینا اور مرنا صرف اللہ رب العالمین کے لیے خاص کردیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت