(41) نبی کریم جو رحمت لے کر دنیا میں مبعوث ہوئے وہ توحید باری تعالیٰ ہے، یہی دین اسلام اور تمام ادیان سماویہ کی اصل اور بنیاد ہے۔ اسی لیے نبی کریم کو رحم کا لقب دینے کے بعد، اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا کہ آپ اہل مکہ سے کہہ دیجیے کہ مجھ پر جو وحی نازل وہتی ہے اس کا خلاصہ یہی ہے کہ تم سب کا معبود ایک ہے اور وہ اللہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اس لیے تم لوگ اسی کے سامنے جھکو، اسی کی عبادت کرو، اور اس کے ساتھ عبادت میں کسی کو شریک نہ کرو۔ اگر اس بلاغ صریح کا ان پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور اسلام کو قبول نہیں کرتے ہیں، تو پھر آپ ان سے برملا کہہ دیجیے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان صلح و آشتی کی اب کوئی صورت نہیں ہے، یہ بات تم میں سے سب کو معلوم ہونی چاہیے، اور آپ ان سے یہ بھی کہہ دیجیے کہ مجھے نہیں معلوم کہ وہ عذاب جو تم پر اللہ مسلمانوں کے ہاتھوں نازل کرنے والا ہے اس کا وقت ریب ہے یا بعید، لیکن اتنی بات یقینی ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کا غلبہ ہوگا اور اللہ مسلمانوں کے ہاتھوں تمہیں عذاب دے گا۔
آیت (110) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم جو اسلام، قرآن کریم اور نبی کریم کا برملا مذاق اڑاتے ہو، اور ان کی عیب جوئی کرتے رہتے ہو تو اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہے اور جو عداوت و دشمنی بغض و حسد اپنے دلوں میں چھپائے پھرتے ہو، اللہ انہیں بھی جانتا ہے، نہ تمہارا ظاہری خبث اللہ سے پوشیدہ ہے اور نہ دل میں چھپا ہوا، مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے کفار مکہ کے لیے زبردست دھمکی ہے۔
آیت (111) میں فرمایا کہ ہوسکتا ہے کچھ دنوں کے لیے عذاب الہی کا ٹل جانا تمہیں مزید آزمائش میں ڈالنے کے لیے ہو، اور ایک مقرر وقت تک کے لیے اللہ کی جانب سے کسی حکمت کے تقاضے کے مطابق تمہارے لیے چھوٹ ہو، اس لیے اس تاخیر و امہال سے تمہیں دھوکے میں نہیں پڑنا چاہئے۔
آیت (112) میں جو اس سورت کی آخری آیت میں ہے، اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کی دعا نقل کی ہے جو انہوں نے اللہ کی جانب سے مشرکوں کے خلاف اعلان جنگ کے بعد کی تھی کہ اے میرے رب ! تو میرے اور میری قوم کے درمیان اب فیصلہ کر ہی دے، جن کا شیوہ اسلام اور مسلمانوں سے عداوت کرنا بن گیا ہے۔ چنانچہ اللہ نے اپنے رسول کی دعا قبول فرمالی، کافروں کو مسلمانوں کے ہاتھوں میدان بدر میں کاری ضرب لگوائی، بہت سے قتل کردیئے گئے اور بہت سے پابند سلاسل بنا لیے گئے، دعا کے آخر میں آپ نے فرمایا کہ ہمارا رب اپنے بندوں پر بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے، اور اس کی ذات ایسی ہے جس سے تمام امور میں مدد مانگنی چاہیے۔ منجملہ ان امور کے کافروں کا یہ کہنا ہے کہ غلبہ انہی کو حاصل ہوگا، تو میں اللہ ہی سے مدد مانگتا ہوں کہ وہ ان کے دعوی کو جھوٹا کر دکھائے۔ وباللہ التوفیق۔