فهرس الكتاب

الصفحة 4631 من 6343

(2) صلح کی ظاہری شرطوں کو قبول کرنے کی وجہ سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بہت زیادہ صبر و ضبط سے کام لینا پڑا، لیکن اس کے نتائج اسلام اور مسلمانوں کے حق میں بہت ہی مفید ثابت ہوئے، عربوں کی کثیر تعداد نے اسلام کو قبول کرلیا اور اللہ پر ایمان لانے والوں میں خوب اضافہ ہوا۔ یہ تمام عظیع نتائج نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صبر و ضبط کی وجہ سے حاصل ہوئے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے:

1۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام اگلے اور پچھلے گناہ معاف کردیئے، یعنی دعوتی اور جہادی زندگی میں " ترک اولیٰ" کی جو کو تاہیاں سر زد ہوئیں ان سب کو اللہ تعالیٰ نے درگذر فرمادیا، مفسرین لکھتے ہیں کہ " ترک اولیٰ" کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے گناہ کہا گیا ہے، دوسروں کے لئے یہ چیز گناہ نہیں ہے۔

2۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اپنی نعمت تمام کردی، بایں طور کہ اس نے آپ کے دین (دین اسلام) کو عزت دی، آپ کے دشمنوں کو مغلوب بنایا اور اسلامی حکومت کے علاقے دن بدن پھیلتے چلے گئے۔

3۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رہنمائی اس دین مبین کی طرف کی جس میں کوئی کجی نہیں ہے۔ مفسر ابوالسعود لکھتے ہیں کہ اگرچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صلح حدیبیہ سے پہلے بھی راہ مستقیم پر گامزن تھے، لیکن اس کے بعد راہ حق کے نشانات زیادہ واضح ہوگئے۔

4۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مستقبل میں ایسی فتح و کامرانی کا وعدہ فرمایا، جس کے بعد اسلام قوی سے قوی تر ہوتا چلا گیا، اہل کفر ذلیل و خوار ہوتے گئے، ان کی تعداد اور ان کی قوت گھٹتی گئی اور مسلمانوں کی تعداد بڑھتی ہی گئی اور ان کی اجتماعی اور مالی حالت بھی پہ سے بہتر ہوتی گئی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت