فهرس الكتاب

الصفحة 4212 من 6343

(23) مرد مومن نے فرعونیوں سے یہ بھی کہا: اے میری قوم کے لوگو ! میں تو تمہیں راہ نجات پر چلنے کی دعوت دیتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور موسیٰ اس کے رسول ہیں اور تم لوگ مجھے کفر و شرک کی دعوت دیتے ہو اور اللہ کے ساتھ ایسے جھوٹے معبودوں کو شریک بنانے کو کہتے ہو جن کے معبود ہونے کا مجھے علم نہیں ہے اور میں تمہیں اس اللہ کی طرف بلاتا ہوں جو زبردست ہے، اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا ہے اور جو بڑا معاف کرنے والا ہے۔

جن اصنام کی عبادت کی تم لوگ مجھے دعوت دیتے ہو، انہیں پکارنے کا نہ تو دنیا میں کوئی فائدہ ہے کہ وہ ہماری تکلیفوں اور مصیبتوں کو دور کردیں گے اور ہماری ضرورتیں پوری کردیں گے، اور نہ ہی آخرت میں ہمارے سفارشی بن کر عذاب کو ٹال سکیں گے کیونکہ وہ تو پتھر ہیں ایک دوسرا مفہوم یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ وہ دنیا اور آخرت کہیں بھی پکارے جانے کے حقدار نہیں ہیں، اس لئے کہ وہ مٹی اور پتھر کے بنے ہوئے ہیں۔

یاد رکھو کہ ہمیں بہرحال لوٹ کر اللہ کے پاس ہی جانا ہے، اور اس دنیا میں جو لوگ حد سے تجاوز کریں گے، اللہ کا انکار کریں گے، لوگوں پر ظلم کریں گے، بے گناہوں کا خون بہائیں گے، آخرت میں ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔

مفسرین لکھتے ہیں کہ مرد مومن کی اس بات میں اشارہ تھا کہ فرعون اور اس کے پیروکار کفر و ظلم میں حد سے تجاوزکر گئے ہیں اور نبی اسرائیل کے بیٹوں کو ناحق قتل کرتے ہیں، اور یہ کہ موسیٰ کے قتل کا ارادہ ظلم میں حد سے بڑھ جانا ہے، جس کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔

مرد مومن نے کہا: لوگو ! جب عذاب الٰہی تمہیں چاروں طرف سے گھیر لے گا اس وقت مجھے اور میری باتیں یاد کرو گے، اور میں اپنا معاملہ اللہ کے حوالے کرتا ہوں وہ اپنے فرمانبردار اور نافرمان تمام بندوں سے خوب واقف ہے۔ وہ بہتر جانتا ہے کہ کون جزائے خیر کا مستحق ہے اور کون عذاب کا۔

مفسرین لکھتے ہیں کہ مرد مومن کی اس بات میں فرعونیوں کے لئے عذاب کی دھمکی تھی۔ اور یہ بات اس نے اس وقت کہی جب کافروں نے اسے قتل کرنا چاہا۔ مقاتل کہتے ہیں کہ وہ مرد مومن بھاگ کر پہاڑ کی طرف چلا گیا اور کفار اسے پکڑ نہیں پائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت