(6) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا جا رہا ہے کہ مشرکین مکہ کے انکار بعث بعد الموت پر آپ کو اس لئے تعجب ہو رہا ہے کہ دلائل و براہین کی روشنی میں یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے، لیکن ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے اسی لئے اتنی واضح ترین حقیقت کا انکار کر رہ یہیں اور آپ کا مذاق اڑا رہے ہیں اور جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ عقیدہ بعث بعد الموت کا انکار نہ کریں تو ان پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا اور جب انہیں کائنات میں موجود کوئی ایسی نشانی دکھائی جاتی ہے جو اللہ کی اس قدرت پر دلالت کرتی ہے تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ محمد کی ہر بات اور اس کا ہر عمل جادو کے قبیل سے ہے، بھلا یہ بھی کوئی عقل سے لگتی بات ہے کہ جب ہم مر جائیں گے اور گل سڑ کر مٹی ہوجائیں گے اور ہماری ہڈیاں رہ جائیں گی تو ہمیں اور ہمارے باپ دادوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا؟!
آیات (81، 91) میں اللہ تعالیٰ نے ان کی اس حیرت آمیز بات کا جواب دیا کہ ہاں تم یقیناً اٹھائے جاؤ گے اور اس وقت تمہیں ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا اور کوئی دلیل و حجت تمہارے کام نہیں آئے گی، وہ تو ایک چیخ ہوگی جو انسانوں کے دوبارہ زندہ ہونے کے لئے حکم الٰہی سے تعبیر ہوگی، تو سارے انسان ایک لخت زندہ ہو کر پنے رب کے حضور کھڑے ہوجائیں گے اور قیامت کی ہولناکیوں کو دیکھنے لگیں گے۔