فهرس الكتاب

الصفحة 2217 من 6343

(38) موسیٰ (علیہ السلام) جب سفر کے لیے روانہ ہوئے تو اللہ کے حکم سے ایک مچھلی تھیلی میں رکھ کر یوشع بن نون کے حوالے کردی اور کہا کہ اسے دیکھتے رہنا، اور جہاں یہ تھیلی سے نکل کر غائب ہوجائے تو مجھے خبر کرنا، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے خضر سے ملنے کی جگہ وہی بتائی تھی جہاں مچھلی غائب ہوجائے گی، لیکن اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ جب دونوں ساحل سمندر کے قریب ایک چٹان سے ٹیک لگائے سو رہے تھے تو مچھلی زندہ ہو کر سمندر میں چلی گئی، اور جہاں سے گزری وہاں کا پانی منجمد ہو کر ایک سرنگ کی شکل اختیار کرگیا۔ دونوں نیند سے بیدار ہونے کے بعد دوبارہ سفر پر روانہ ہوگئے۔ ایک لمبی مسافت طے کرنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو بھوک لگی اور کھانے کے لیے مچھلی مانگی تو یوشع بن نون نے کہا کہ میں تو مچھلی کی بات آپ کو بتانا بھول ہی گیا تھا، ہمیں اس چٹان کے پاس لوٹ کر جانا چاہیے جہاں رکے تھے، وہ مچھلی غائب ہوئی ہے وہ آدمی جس کی ہمیں تلاش ہے وہیں ملے گا، چنانچہ دونوں قدم بہ قدم اسی راستہ سے واپس ہوئے جس سے گئے تھے، تاکہ مطلوبہ جگہ پر پہنچ جائیں، وہاں ان کی ملاقات خضر سے ہوئی، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے نوازا تھا اور اپنا ولی بنایا تھا اور بعض غیبی امور کا علم دیا تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس بھی نہیں تھا، اکثر لوگوں کی یہی رائے ہے، ابن عباس نے آیت میں رحمۃ سے مراد نبوت لیا ہے۔ چنانچہ کچھ لوگوں کی رائے یہ ہے کہ خضر نبی تھے، واللہ اعلم بالصواب۔

عام محدثین اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ کا قول یہ ہے کہ خضر کا انتقال ہوچکا ہے، اگر زندہ ہوتے تو نبی کریم کے پاس آکر ان پر ایمان لانا واجب ہوتا۔

اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانباء آیت (34) میں فرمایا: (وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد افان مت فھم الخالدون) آپ سے پہلے کسی بھی انسان کو ہم نے ہمیشگی نہیں دی، کیا اگر آپ مر گئے تو وہ ہمیشہ کے لیے رہ جائیں گے۔ اور اس کے بعد والی آیت میں مزید تاکید کے طور پر فرمایا: (کل نفس ذائقۃ الموت) ہر جان دار موت کا مزہ چکھنے والا ہے۔

اور نبی کریم نے فرمایا: ارایتکم لیلتکم ھذہ فان علی راس مائۃ سنۃ منھا لا یبقی ممن ھو علی ظھر الارض احد۔ اس رات کو یاد کرلو اس لیے کہ زمین پر آج جتنے بھی انسان زندہ ہیں، ان میں سے کوئی بھی سو سال کے بعد باقی نہیں رہے گا۔ (مسلم) اور مسلم ہی کی ایک دوسری روایت میں ہے: (واقسم باللہ ما علی الارض من نفس منفوسۃ تاتی علیھا مائۃ سنۃ۔ اللہ کی قسم ! زمین پر آج جتنے بھی جان دار ہیں ان پر سو سال گزر نہیں سکتا۔ مذکورہ بالا دلائل سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ خضر انتقال فرما چکے ہیں۔

صحیح بخاری میں ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) جب ان سے ملے تو کہا کہ میں آپ سے علم حاصل کرنے کے لیے آیا ہوں، تو خضر نے کہا آپ کے لیے کیا یہ کافی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تورات دیا اور آپ پر وحی نازل ہوتی ہے۔ میرے پاس جو علم ہے اس کا حاصل کرنا آپ کے لیے مناسب نہیں ہے اور آپ کے پاس جو علم ہے اس کا حاصل کرنے میرے لیے مناسب نہیں ہے، پھر ایک چڑیا نے سمندر میں چونچ مارا تو خضر نے کہا کہ اللہ کی قسم ! میرا اور آپ کا علم اللہ کے علم کے مقابلہ میں ایسا ہی ہے جیسا اس چڑیا نے سمندر میں چونچ ماری ہے۔

یہاں ایک بہت ہی اہم بات کا جان لینا ضروری ہے کہ خضر کے پاس جو علم تھا وہ اللہ کا محض مخصوص عطیہ تھا جیسا کہ آیت (65) میں اس کی صراحت آگئی ہے، اس لیے بعض گمراہ لوگوں کا یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ انبیا کے علاوہ بعض دوسروں کو علم لدنی دیتا ہے جو ظاہری علم شریعت سے مختلف ہوتا ہے، گمران کن رائے ہے اور شریعت سے آزادی حاصل کرنے کا بہانہ ہے، اللہ نے خضر کو بعض غیبی امور کا علم دیا تو قرآن میں اس کی صراحت کردی، اگر کوئی اور شخص خود سے علم لدنی کا دعوی کرے گا تو اس کی بات نہیں مانی جائے گی، اس لیے کہ اس کے پاس خضر کی طرح قرآن سے دلیل موجود نہیں ہے کہ اللہ نے اسے کوئی مخصوص علم لدنی دیا ہے۔ وباللہ التوفیق۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت