(9) موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے یہ بھی کہا کہ اگر تم لوگ میری نبوت پر ایمان نہیں لاتے، تو مجھے میرے حال پر چھوڑ دو، اور ایذا نہ پہنچاؤ، لیکن جب ہر ممکن کوشش کے باوجود قبطیوں نے ان کی دعوت نہیں قبول کی اور انہیں قتل کرنے کی ٹھان لی، تو انہوں نے اپنے رب سے دعا کی اور کہا، اے میرے رب ! یہ مجرم و مفسد لوگ ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کرلی اور انہیں بذریعہ وحی حکم دیا کہ وہ نبی اسرائیل کو لے کر راتوں رات وہاں سے نکل جائیں اور انہیں یہ بھی خبر دی کہ فرعون اور دیگر قبطی، انہیں گھیر کر واپس لانے کیلئے ان کا پیچھا کریں گے۔
آیت (24) میں اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ جب آپ بحر قلزم پار کر جائیں تو اپنی لاٹھی مار کر سمندر کو اس کی اصل حالت میں لوٹانے کی کوشش نہ کیجیے، اسے اسی طرح کشادہ کھلا ہوا چھوڑ دیجیے، تاکہ اس میں فرعون اور فرعونی داخل ہوں اور انہیں ڈبودیا جائے اور ان کے انجام کی خبر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پہلے ہی اس لئے دے دی تاکہ ان کا ڈر جاتا رہے۔
چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ اللہ نے موسیٰ اور بنی اسرائیل کو نجات دی اور فعن اور اس کے لشکر کو ڈبو دیا۔