فهرس الكتاب

الصفحة 4660 من 6343

(1) بخاری نے عبداللہ الزبیر (رض) سے روایت کی ہے کہ بنی تمیم کے کچھ سوار نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے، ابوبکر (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہ ان کا امیر قعقاع بن معبد کو بنائیے، اور عمر (رض) نے کہا: اقرع بن حابس کو بنائیے، ابوبکر (رض) نے کہا: تمہارا مقصد صرف میری مخالفت کرنی ہے۔ عمر (رض) نے کہا: میرا مقصد آپ کی مخالفت کرنی نہیں ہے۔ دونوں کے درمیان بات بڑھ گئی اور دونوں کی آواز اونچی ہوگئی تو یہ آیت نازل ہوئی۔

اس میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو اس بات سے منع فرمایا ہے کہ وہ عجلت میں آ کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے کؤی بات کہیں، یا کوئی کام کریں، یا اللہ اور اس کے رسول کا حکم جاننے سے پہلے کوئی اقدام کریں۔

حافظ ابن کثیر نے آیت کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ مسلمانو ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے کوئی کام کرنے میں جلدی نہ کرو، بلکہ تمام امور میں ان کی پیروی کروخ ابن جریر نے اس کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ اے وہ لوگو جنہوں نے اللہ کی وحدانیت اور اس کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا اقرار کیا ہے تم اپنے کسی جنگی یا دینی معاملے میں اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے سے پہلے خود کوئی فیصلہ نہ کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ اور اس کے رسول کی مرضی کے خلاف فیصلہ کرلو عرب کہا کرتے ہیں " فلان یتقدم بین یدی امامہ" یعنی فلاں شخص امام سے پہلے امر اور نہی صادر کرنے لگتا ہے۔

آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مومنو ! اپنے تمام معاملات میں اللہ سے ڈرتے رہ۔ ان معاملات میں یہ بھی داخل ہے کہ اللہ اور اس کے رسول سے پہلے نہ کوئی کام کیا جائے نہ کوئی بات کہی جائے اور نہ ان کے فیصلے سے پہلے کوئی فیصلہ کیا جائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت