فهرس الكتاب

الصفحة 5465 من 6343

(8) اس بیماری کا اللہ تعالیٰ نے جو انسان کا خالق ہے، ایک ہی علاج بتایا ہے کہ بندہ اس دنیا میں اللہ کا ہو کر رہے، اس نے جو فرائض عائد کئے ہیں انہیں پابندی سے ادا کرے، اور جن برے افعال و اخلاق سے اس نے منع کیا ہے، ان سے اجتناب کرے۔ ایسا کرنے سے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس کے اندر ایسی روحانی قوت پیدا کردیتا ہے کہ جب اس پر کوئی مصیبت آتی ہے تو جزع فزع میں مبتلا نہیں ہوتا، بلکہ اس ایمان و یقین کے ساتھ اسے برداشت کرتا ہے کہ رب العالمین کی تقدیر میں ایسا ہی ہونا لکھا تھا، اس لئے ہمت و عزیمت کے ساتھ صبر کرتا ہے اور اللہ سیدعا کرتا ہے کہ ارحم الراحمین اسے اس کے سر سے ٹال دے، اور جب اللہ تعالیٰ اسے دولت سے نوازتا ہے تو اس کا شکر ادا کرتا ہے، کبر و غرور میں مبتلا نہیں ہوتا، آپے سے باہر نہیں ہوجاتا، اور اس مال میں اللہ اور بندوں کا جو حق ہوتا ہے، اسے نہایت خوش دلی سے ادا کرتا ہے، بلکہ اس کی جو مالی حیثیت ہوتی ہے اس اعتبار سے غریبوں، محتاجوں، بے کسوں، یتیموں اور بیواؤں پر ہمیشہ خرچ کرتا رہتا ہے۔

آیات (22) سے (35) تک اللہ تعالیٰ نے جزع فزع اور شدت حرص و طمع سے شفا پانے کے اسی نسخہ کیمیا کو بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دونوں بیماریوں سے اللہ تعالیٰ ان کو شفا دے گا:

1۔ جو اپنی نمازیں پابندی کے ساتھ اور ان کے ارکان و شروط اور سنن کی رعایت کرتے ہوئے ادا کرتے ہیں۔

2۔ ان کے مال میں اللہ نے مانگنے والوں اور محروموں کا جو حق مقرر کیا ہے، اسے بطیب خاطر ادا کرتے ہیں۔

3۔ بعث بعد الموت، روز قیامت اور اس دن کے جزاء و سزا پر ایمان رکھتے ہیں۔

4۔ جب وہ شیطان کے نرغے میں آ کر کوئی فعل واجب چھوڑ دیتے ہیں، یا کسی فعل حرام کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں تو اللہ کے عذاب کات صور کر کے ان کے جسموں پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے، اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ کا عذاب کسی کو بھی اپنی گرفت میں لے سکتا ہے اس سے بے خوف ہو کر کافرو منافق ہی زندہ رہتا ہے، مومن اپنے رب کے خوف سے ہر وقت کا نپتا رہتا ہے۔

5۔ وہ لوگ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، یعنی زنا اور لواطت سے بچتے ہیں اور شوہر و بیوی اور اپنی لونڈی کے سوا کسی کے سامنے اپنی شرمگاہ نہیں کھولتے البتہ اگر وہ اپنی بیویوں سے جماع کرتے ہیں، یا ان لونڈیوں سے جنہیں اسلامی جہاد یا شرعی طور پر خرید کر حاصل کیا تھا تو وہ قابل ملامت نہیں ہیں اگر کوئی شخص ان دونوں طریقوں کے سوا کسی اور طریقہ سے عورت کو حاصل کرتا ہے اور اس سے جماع کرتا ہے تو وہ اللہ کے مقرر کردہ حد سے تجاوز کرنے والا قرار دیا جائے گا۔

6۔ اور وہ لوگ امانتوں اور عہد و مواثیق کی حفاظت کرتے ہیں اور سب اہم امانت اور سب سے پختہ میثاق بندے کا اپنے رب سے یہ عہد و میثاق ہے کہ جب تک زندہ رہے گا اس کی بندگی کرتا رہے گا اور اس کے رسول کی بات کو سب کی بات پر مقدم رکھے گا۔

7۔ اور وہ لوگ اپنے پاس موجود شہادتوں کو نہیں چھپاتے، بلکہ جب ان کی ضرورت پڑتی ہے تو حکام کے سامنے انہیں بے کم و کاست ادا کرتے ہیں۔

8۔ اور وہ لوگ اپنی پنجگانہ نمازیں، شروط و ارکان کا التزام کرتے ہوئے خشوع و خضوع، طمانیت اور رکوع، سجدہ اور قیام میں اعتدال کا لحاظ کرتے ہوئے ان کے مقرر و محدد اوقات میں ادا کرتے ہیں۔

مفسرین لکھتے ہیں کہ آیت میں نمازوں کے اہتمام کا ذکر دوبارہ آنا، نماز کی فضیلت اور دیگر اعمال صالحہ کے مقابلہ میں اس کی عظمت و اہمیت کی دلیل ہے، اللہ کے جو مومن بندے ان اوصاف کے حامل ہوں گے، اللہ کے فضل و کرم سے، آیت (19) میں مذکور نفسیاتی بیماری سے وہ محفوظ رہیں گے اور جب دنیا سے رخصت ہو کر اپنے پاس پہنچیں گے تو اللہ انہیں عزت و اکرام کے ساتھ جنتوں میں جگہ دے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت