(7) ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے ان کی ذمہ داری یاد دلائی ہے کہ آپ کا کام محض تبلیغ و دعوت ہے، اسے آپ پورا کرتے رہئے، کسی کو ایمان لانے اور راہ راست اختیار کرنے پر مجبور کرنا آپ کا کام نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ ق آیت (45) میں فرمایا ہے: (وما انت علیھم بجبار فذکر بالقرآن من یخاف وعید) " اور آپ اس بات کے مکلف نہیں ہیں کہ لوگوں کو ایمانل انے پر مجبور کریں، پس آپ قرآن کے ذریعہ ان لوگوں کو سمجھاتے رہئے جو میرے وعید سے ڈرتے ہیں۔ "
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت توحید جسے پہنچ گئی اور اس نے اسے قبول نہیں کیا بلکہ کفر و سرکشی کی راہ اختیار کی، ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے آیت (23) میں دھمکی دی ہے کہ ہم انہیں قیامت کے دن شدید عذاب میں مبتلا کریں گے اور ہم سے بھاگ کر وہ کہیں نہیں جاسکتے، موت کے بعد انہیں بہر حال ہمارے پاس ہی آنا ہے اس دن ہم دنیا میں ان کے کئے کا ان سے حساب لیں گے اور اس کا انہیں بدلہ چکائیں گے۔ " ان خیر افخیر و ان شر افشر" جس نے اچھے اعمال کئے ہوں گے اسے ہم اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل کردیں گے اور جس نے کفر و شرک کی راہ اختیار کی ہوگی اور گناہوں کا انبارلئے ہمارے حضور آئے گا، اسے ہم جہنم میں ڈال دیں گے۔ وباللہ التوفیق