(41) یہاں سے آیت (70) تک اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت و الوہیت کی چند نشانیاں بیان کی ہیں، اس نے بنی نوع انسان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تمہارا رب وہ ہے جو کشتیوں کو سمندر میں ہواؤں کے سہارے چلاتا ہے تاکہ تم اپنی مرضی کے مطابق جہاں چاہو تجارت کی غرض سے جاؤ، اور اللہ کی پیدا ہوئی روزی حاصل کرو، یقینا وہ تم پر بہت مہربان ہے کہ سمندر تک کو تمہارے لیے مسخر کردیا، تاکہ تم اسے اپنے سفر اور تجارت کے لیے بآسانی استعمال کرسکو، اور جب تم کشتی میں سوار ہوتے ہو اور بیچ سمندر میں تمہیں کوئی بیماری یا پریشانی لاحق ہوجاتی ہے یا راستہ کھو بیٹھتے ہو یا کسی بھنور میں پھنس جاتے ہو اور کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو تم اپنے تمام باطل معبودوں کو یکسر بھول جاتے ہو اور فطرت کے تقاضے کے مطابق صرف ایک اللہ کو پکارنے لگتے ہو، جس کے مطابق اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے، لیکن جب وہ تمہیں خیر و خوبی کے ساتھ ساحل پر پہنچا دیتا ہے تو اس کی یاد سے غافل ہوجاتے ہو اور پھر اپنے جھوٹے معبودوں کو پکارنے لگتے ہو اس لیے کہ انسان طبعی طور پر پڑا احسان فراموش واقع ہوا ہے۔
آیت (68) میں اس ناشکری پر دھمکی دیتے ہوئے اور ڈراتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا تمہیں ڈر نہیں لگتا کہ سمندر سے نکل کر جس حصہ زمین پر اترے ہو، اللہ تعالیٰ اس کو دھسا دے اور تم زمین کے نیچے چلے جاؤ، یا کسی شدید آندھی کو بھیج دے جو تم پر پتھروں کی بارش کردے، اور تمہیں ہلاک کردے، اور کوئی تمہاری مدد کے لیے نہ آئے، یا تم اس بات سے نہیں ڈرتے ہو کہ وہ تمہیں دوبارہ سمندر میں پہنچا دے اور پھر کسی شدید طوفان کی زد میں ڈال کر کفر و تمرد کی وجہ سے فرعونیوں کی طرح ڈبو دے، اور تمہارا کوئی ساتھ دینے والا نہ ہو جو پوچھ سکے کہ ہم نے تمہیں عذاب کیوں دیا؟
جب اللہ کے سوا کوئی تماہرا سہارا نہیں کوئی تمہاری مدد کرنے والا نہیں تو کیوں نہیں تم اس پر دل سے ایمان لاتے ہو؟ کیوں نہیں سارے جھوٹے معبودوں کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے اس کی غلامی اور بندگی کا عہد کرلیتے ہو؟ اور کیوں نہیں صرف اسی کے ہوجاتے ہو؟ آیت (70) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا حقیقت یہ ہے کہ ہم نے آدم کی اولاد کو قوت گویائی،، عقل و ہوش، علم و معرفت، اچھی شکل و صورت اور زمین پر پائی جانے والی تمام اشیا سے استفادہ کرنے کی قوت دے کر، انہیں بڑی عزت دی ہے، ہم نے ان کے لیے خشکی اور پانی میں سفر کرنے کے تمام ذرائع آسان کردیئے ہیں، اور انواع و اقسام کی روزی دی ہے اور انہیں جنوں اور تمام جانوروں پر فضیلت دی ہے اور ان کے خاص افراد کو فرشتوں تک پر فضیلت دی ہے۔
لیکن آدمی جب کفر کی راہ اختیار کرتا ہے عبادت میں اللہ کے ساتھ غیروں کو شریک کرتا ہے اور اسے چھوڑ کر دوسروں سے محبت کرنے لگتا ہے تو وہ اللہ کی بدترین مخلوق بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ البینہ آیت (6) میں فرمایا ہے: (ان الذین کفروا من اھل الکتاب والمشرکین فی نار جھنم خالدین فیھا اولئک ھم شر البریۃ) بیشک جو لوگ اہل کتاب میں سے کافر ہوئے اور مشرکین دوزخ کی آگ میں جائیں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے یہی لوگ (اللہ کی) بدترین مخلوق ہیں۔