فهرس الكتاب

الصفحة 3621 من 6343

(46) مفسرین لکھتے ہیں کہ اللہ کو ایذا دینے سے مراد یہ ہے کہ کسی کو اس کا بیٹا یا شریک بتایا جائے، یا کسی بھی حیثیت سے اسے عاجز سمجھا جائے، یا حیوانات کا مجسمہ بنا کر صفت خلق میں اس کی مشابہت اختیار کی جائے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذا پہنچانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی گالی دے، آپ کی عیب جوئی کرے، آپ پر اور آپ کے گھرانے پر طنز و تعریض کرے۔

طبری نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی جنہوں نے صفیہ (رض) سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شادی کے موقع پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر طعن و تشنیع کیا تھا صاحب محاسن التنزیل لکھتے ہیں کہ اس آیت کا زینب بنت حجش کی شدای کے واقعے سے زیادہ تعلق ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب ان سے شادی کی تو منافقین نے خوب باتیں بنائی تھیں کہ محمد نے اپنے بیٹے زید کی مطلقہ سے شادی کرلی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت