فهرس الكتاب

الصفحة 4423 من 6343

(24) اکثر مفسرین کی رائے ہے کہ یہ آیت کریمہ ابن الزبعری کے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک مجادلہ کے بعد نازل ہوئی تھی۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ جب سورۃ الانبیاء کی آیت (89) (انکم وماتعبدون من دون اللہ حصب جھنم) " تم اور تمہارے معبود ان باطل جہنم کا ایندھن بنو گے" نازل ہوئی، تو ابن الزبعری نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہ رب کعبہ کی قسم ! آج میں تم پر غالب آگیا، کیا نصاریٰ عیسیٰ کی یہود عزیز کی اور بنو ملیح فرشتوں کی پرستش نہیں کرتے ہیں۔ اگر یہ لوگ جہنم میں جائیں گے تو ہم بھی اپنے معبودوں کے ساتھ جہنم میں جانے کے لئے تیار ہیں۔ مشرکین اس کی اس بات سے بہت خوش ہوئے اور شور مچانے لگے تو سورۃ الانبیا کی آیت (101) (ان الذین سبقت لھم منا الحسنی اولئک عنھا مبعدون) " جن کے لئے ہماری جانب سیپہلے سیہی جنت کا فیصلہ ہوچکا ہے، وہ لوگ جہنم سے دور رکھے جائیں گے" نازل ہوئی اور اس سورت کی یہ آیت کریمہ نازل ہوئی، جس کا مفہوم یہ ہے کہ جب ابن الزبعری نے عیسیٰ کو بتوں کے مشابہ قرار دیا تو کفار قریش بہت خوش ہوئے اور مارے ہنسی کے لوٹ پوٹ کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہمارے معبود بہتر ہیں یا عیسیٰ، یعنی جب عیسیٰ کی عبادت کی جاسکتی ہے، تو فرشتے جن کی ہم عبادت کرتے ہیں بدرجہ اولیٰ عبادت کئے جانے کے حقدار ہیں۔

آیت (58) کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے میرے نبی ! ابن الزبعری کا مقصد طلب حق نہیں، بلکہ محض مجادلہ تھا، اور پوری قوم قریش اس مرض میں مبتلا ہے، کہ وہ لوگ باطل کو غلاب کرنے کے لئے جدال و نقاش کا سہارا لیتے ہیں، ترمذی، ابن ماجہ اور حاکم و غیر ہم نے ابوامامہ (رض) سے بسند صحیح روایت کی ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب بھی کوئی قوم گمراہ ہوئی تو اس نے جدال کی راہ اختیار کی، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت