فهرس الكتاب

الصفحة 3536 من 6343

(3) اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا: کفار مکہ کہتے ہیں کہ اسے محمد نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے، یہ سراسر ان کی افترا پردازی ہے یہ تو آپ کے رب کا برحق کلام ہے، جسے اس نے آپ پر بذریعہ وحی نازل کیا ہے، تاکہ آپ اس کے ذریعہ ان مشرکین عرب کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی رسول نہیں آیا تھا، تاکہ وہ اللہ پر ایمان لے آئیں، اس کی و حدانیت کا اقرار کریں اور دین حق کو قبول کر کے جہنم کی آگ سے نجات حاصل کریں اور جنت کے حقدار بنیں۔

مفسرین لکھتے ہیں کہ یہاں " قوم" سے مراد تمام عرب ہیں، بعض کہتے ہیں کہ اس سے صرف " اہل قریش" مراد ہیں، اور کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو عیسیٰ (علیہ السلام) اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیانی وقفہ میں پائے گئے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت