فهرس الكتاب

الصفحة 2748 من 6343

15۔ اللہ تعالیٰ نے تو تمام انبیا کو ایک ہی دین دے کر بھیجا، جس کا ذکر اوپر آچکا ہے لیکن ان انبیا کے گزر جانے کے بعد لوگ مختلف جماعتوں اور فرقوں میں بٹ گئے، پہلے تو یہود و نصاری بنے، پھر ہر ایک کے بیسیوں فرقے بن گئے، اسی طرح جن لوگوں نے شرک کی راہ اختیار کی ان کی بھی مختلف جماعیں بنتی چلی گئیں، اور ہر جماعت بزعم کود خوش ہوتی رہی کہ وہی حق پر ہے اور دوسری جماعتیں گمراہ ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے نبی کو مخاطب کر کے فرمایا کہ آپ انہیں ضلالت و گمراہی میں یونہی غلطاں و پیچاں چھوڑ دیجیے، ان کے اندر حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے، اور اگر ان پر عذاب نازل نہیں ہوتا تو تنگ دل نہ ہوییے، کیونکہ اللہ کے یہاں پر چیز کا ایک وقت مقرر ہے۔

آیات (55، 56) میں فرمایا کہ ہم جو کافروں کے مال اور اولاد میں بڑھاوا دے رہے ہیں تو کیا وہ اس خوش فہمی میں پڑے ہوئے ہیں کہ ہم انہیں خیرات و برکات سے نوازنے میں جلدی کر رہے ہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے بلکہ وہ جانوروں کے مانند عقل و شعور سے عاری ہیں اسی لیے تو وہ سمجھ نہیں پارہے ہیں کہ درحقیقت ان کے لیے رسی ڈھیل دی گئی ہے تاکہ گناہوں کی طرف مزید پیش قدمی کرتے چلے جائیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت