فهرس الكتاب

الصفحة 3417 من 6343

(29) مشرکین مکہ اپنے کفر و شرک پر اصرار کرتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر محمد اپنے دعویٰ نبوت میں صادق ہے تو گزشتہ نبیوں کی طرح اس کے رب نے اسے بھی کچھ مادی نشانیاں کیوں نہیں دی ہیں؟ تو اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی ان کا جواب دیا کہ معجزات کا مالک تو اللہ ہے، وہ اپنی مرضی سے جب اور جسے چاہتا ہے دیتا ہے کوئی دوسرا اس پر قادر نہیں ہے، میرا کام تو صرف لوگوں کے سامنے پوری صراحت و وضاحت کے ساتھ اللہ کے دین کو بیان کردینا ہے۔

آیت (51) میں اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کی ہٹ دھرمیوں کا مزید جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ قرآن جو ہم نے آپ پر نازل کیا ہے اور جسے آپ انہیں پڑھ کر سناتے ہیں، کیا یہ علمی معجزہ ان کے ایمان لانے کے لئے کافی نہیں ہے؟ یقیناً کافی ہے اور آپ نے تو انہیں بارہا قرآن کی زبان میں چیلنج بھی کیا کہ اگر وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہق رآن کسی انسان کا کلام ہے تو اس جیسا کلام لا کر دکھلا دیں، یا کم از کم اس جیسی ایک ہی سورت پیش کردیں، لیکن وہ ایسا نہیں کرسکے اور وہ کر بھی کیسے سکیں گے، اللہ کے کلام جیسا کلام کہاں سے لا سکیں گے آیت کے آخر میں قرآن کریم کے بارے میں فرمایا گیا کہ یہ تو پوری دنیائے انسانیت کے لئے رحمت ہے اور اہل ایمان کے لئے اس میں بہت سی نصیحتیں ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت