22۔ اہل قریش کے کفر و طغیان پر مزید نکیر کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ ان کا باطن اس قدر سیاہ ہوچکا ہے کہ اگر ہم ان کے حال پر رحم کرتے ہوئے بھوک اور قحط سالی کی تکلیف کو دور بھی کردیں، تو بھٹکتے پھریں گے، اور ایمان نہیں لائیں گے، اور اس کا عملی تجربہ بھی ہوچکا ہے کہ ہم نے انہیں بھوک اور قحط سالی میں مبتلا کیا اور میدان بدر میں ان میں سے بہت قتل کیے گئے، اور جو باقی رہے وہ پابند سلاسل کرلیے گئے، لیکن انہیں اس کی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ اپنے رب کے سامنے جھکتے اور گریہ و وزاری کرتے، بلکہ اپنے کفر پر اکڑ رہے۔ چنانچہ جب ان کی سرکشی حد سے بڑھ گئی تو ہم نے ان کے سامنے شدید عذاب کا ایک دروازہ کھول دیا جس کی سختیوں نے انہیں بھیانک یاس و ناامیدی میں مبتلا کردریا۔
مفسرین لکھتے ہیں کہ اس عذاب سے مراد یا تو عذاب آخرت ہے، یا معرکہ بدر میں ان کا قتل کیا جاتا ہے، یا وہ قحط جو رسول اللہ کی دعا کی وجہ سے واقع ہوا تھا، یا فتح مکہ، جس کے بعد ان کا غرور ٹوٹ گیا تھا اور ناامیدی کا گہرا سایہ ان کے دلوں پر پڑگیا تھا۔