(124 اللہ کی نگاہ میں اشخاص، اعمال اور اموال میں اچھے اور برے برابر نہیں ہوسکتے، اس لیے ہمیشہ صالح اعمال اور حلال مال کے حصول کی کو شش میں لگے رہنا چاہئیے خبیث کی کثرت اگرچہ بعض اوقات انسان کو نتا ثر کرتی ہے لیکن اللہ کے نزدیک ہمیشہ اعتبار صالحیت اور عمدگی کا ہوتا ہے، قلت وکثرت کا نہیں، اگر افراد، یا مال، یا عمل، صالح ہے تو تھوڑا بھی مذموم وخبیث کی کثرت سے ہزار درجہ بہتر ہے اس لیے مومنین کی کو شش یہ ہونی چاہیے کہ خبیث سے احتراز کریں اور طیب و صالح کو ترجیح دیں چاہے وہ کم ہو۔