فهرس الكتاب

الصفحة 2564 من 6343

(21) ابراہیم علیہ السلا بھری محفل میں لائے گئے اور ان سے پوچھا گیا کہ اے ابراہیم ! کیا تم نے ہمارے بتوں کا یہ حال بنا دیا ہے؟ تو انہوں نے بت پرستوں کے خلاف حجت قائم کرنے کے لیے اور ان کی عقل پر ماتم کرتے ہوئے کہا کہ جب یہ بڑا بت تمہارا سب سے بڑا معبود ہے اور اسے تم نافع و ضار مانتے ہو تو پھر اسی نے کیا ہوگا، اور اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہوگا کہ اس کے علاوہ دیگر چھوٹے بتوں کی تم لوگ کیوں پوجا کرتے ہو۔ ابراہیم کا مقصود اپنی طرف جھوٹ کی نسبت کرنا ہرگز نہیں تھا، اس لیے کہ اس سے بڑھ کر کم عقلی اور کیا ہوسکتی تھی کہ وہ ایک پتھر سے تراشتے مجسمہ کی طرف توڑ پھوڑ کو سنجیدگی کے ساتھ منسوب کرتے، اور عقیدہ بت پرستی پر ایک کاری ضرب لگانے کے لیے مزید کہا کہ اگر یہ بت معبود حقیقی ہیں تو ان کے اندر کم از کم بولنے کی صلاحیت تو ضرور ہوگی، انہی سے پوچھ لو کہ کس نے ان کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا ہے۔ ابراہیم کا بتوں کے بارے میں یہ استہزا آمیز اور مبنی بر حقیقت جواب سن کر مشرکین لاجواب ہوگئے اور آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ ان بے روح جمادات کی عبادت کر کے درحقیقت ہم ہی اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہیں اور خواہ مخواہ ابراہیم کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں، لیکن کچھ ہی دیر کے بعد ان کا کبر و عناد سر اٹھا کر پھر سامنے آگیا، اس لیے کہنے لگے: تمہیں معلوم ہے کہ یہ اصنام بات نہیں کرسکتے ہیں تو کیوں کہتے ہو کہ ہم ان سے پوچھ لیں، ان کے اس جواب سے ابراہیم کا مقصد پورا ہوگیا کہ جب تم خود اعترا کرتے ہو کہ یہ بولنے کی بھی طاقت نہیں رکھتے ہیں تو پھر کیوں ان کے سامنے جبہ سائی کرتے ہو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت