فهرس الكتاب

الصفحة 5428 من 6343

(15) مشرکین مکہ کی تردید کی گئی ہے جو قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا انکار کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لوگو ! میں ان تمام چیزوں کی قسم کھاتا ہوں جنہیں تم دیکھتے ہو اور جنہیں تم نہیں دیکھتے ہو یعنی تمام مخلوقات کی اور اپنی ذات اقدس کی قسم کھاتا ہوں کہ میرے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچے ہیں اور انہوں نے یہ قرآن اپنے رب کی جانب سے لوگوں کو سنایا ہے، یہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہے جیسا کہ تم لوگوں میں جھوٹا پروپیگنڈہ کرتے ہو حقیقت یہ ہے کہ تم دولت ایمان سے محروم ہو اگر تم ممن ہوتے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اوصاف و اخلاق میں غور و فکر کرتے تو تمہارے لئے روشن آفتاب کی طرح یہ بات واضح ہوجاتی کہ وہ اقعی اللہ کے رسول ہیں اور جو قرآن لے کر وہ مبعوث ہوئے ہیں وہ کلام الٰہی ہے۔

اور یہ قرآن کاہن کا کلام بھی نہیں ہے، جیسا کہ بعض مشرکین عرب کہتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ فکر و نظر کی نعمت سے یکسر محروم ہو ورنہ تمہیں یہ بات یقیناً سمجھ میں آجاتی کہ قرآن کسی کاہن کا کلام نہیں ہے، اس لئے کہ قرآن حق و صداقت لے کر نازل ہا ہے جبکہ کہانت کی بنیاد جھوٹ پر ہوتی ہے۔

مشرکین مکہ کے شبہات کی تردید کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے بطور تاکید فرمایا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن رب العالمین کا کلام ہے یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کلام کی عظمت اس کا جلال اور دل و دماغ پر پڑنے والا اس کا غیر معمولی اثر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا مالک وہ اللہ ہے جو عظمت و جلال اور کبریائی والا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت