(15) ہود (علیہ السلام) اللہ کے نبی تھے اور قوم عاد کے فرد تھے، اسی لئے انہیں ان کا بھائی کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا کہ آپ اہل قریش کو ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا واقعہ سنا دیجیے، تاکہ اس عبرت حاصل کریں۔ ان کا مسکن جزیرہ عرب کے جنوب میں حضرموت اور عمان کے درمیان تھا، یہ ایک اونچا اور لمبا ریتیلا علاقہ تھا، جہاں ان کے مکانات اور کھیتیاں تھیں، اور یہ لوگ قوی ہیکل اور تنومند تھے، آس پاس کی قومیں ان کے ظلم و تعدی سے بہت پریشان رہتی تھیں۔
ہود (علیہ السلام) نے انہیں اللہ کے عذاب سے ڈرایا (جیسے ان سے پہلے اور ان کے بعد آنے والے تمام انبیاء نے اپنی قوموں کو ڈرایا تھا) اور کہا کہ لوگو ! اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو، اگر تم نے میری بات نہ مانی تو مجھے ڈر ہے کہ ایک بڑے ہی خطرناک دن کا عذاب تمہیں اپنی گرفت میں لے لے گا۔
قوم عاد نے ان کی دعوت کو ٹھکرا دیا اور ان سے کہا، کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہمیں ہمارے معبودوں کی عبادت سے روک، تو سن لو کہ ہم تمہاری بات نہیں مانیں گے اور تم پر ایمان نہیں لائیں گے اگر تم اپنی بات میں سچے ہو کہ ہم پر اللہ کا عذاب ٹوٹ پڑے گا تو وہ کر دکھاؤ۔
ہود (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ مجھے اس بات کا یقین ہے کہ وہ عذاب آ کر رہے گا، لیکن اس کا وقت مجھے معلوم نہیں ہے، اس کا علم صرف للہ کو ہے۔ میرا کام تو صرف پیغام رسانی ہے، لیکن بات یہ ہے کہ تم نرے جاہل اور نادان لوگ ہو، بجائے اس کے کہ تم اپنے رب کی رحمت و مغفرت طلب کرو، اپنے لئے عذاب کی جلدی مچا رہے ہو۔