14 مفسرین لکھتے ہیں کہ جب اس نے یہ بات کہی تو سب نے مل کر یکبارگی اس پر حملہ کردیا اور اسے قتل کردیا، بعض نے لکھا ہے کہ اسے ایک خندق میں زندہ گاڑ دیا اور بعض نے لکھا ہے کہ جب انہوں نے اسے مارنا چاہا تو اللہ تعالیٰ نے اسے آسمان پر اٹھا لیا پھر اسے جنت میں داخل کردیا جب اس نے جنت اور اس کی نعمتوں کا مشاہدہ کیا تو کہا اے کاش ! میری قوم ایمان باللہ اور عقیدہ توحید کو سمجھ جاتی اور اسے اپنا لیتی جس کے سبب اللہ نے میرے تمام گناہوں کو معاف کردیا ہے اور مجھے جنت میں شہداء اور صالحین کا مقام دے کر معزز و مکرم بنایا ہے، تاکہ وہ بھی اسی راہ پر چل کر جنت میں اعلیٰ مقام حاصل کرلیتے۔
ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ اس مرد مومن نے اپنی قوم کے لئے زندگی میں اخلاص و محبت کا ثبوت دیا کہ انہیں رسولوں پر ایمان لانے کی نصیحت کی اور مرنے کے بعد بھی تمنا کی کہ کاش وہ لوگ مسلمان ہوجاتے، تاکہ اللہ کے عذاب سے بچ جاتے اور جنت کے مستحق بن جاتے۔