(17) نبی کریم کو تسلی دی گئی ہے کہ اگر کفار مکہ آپ کا مذاق اڑاتے ہیں تو آپ صبر سے کام لیجیے اور ان کے انجام کا انتظار کیجیے اس لیے کہ اہل کفر کا ہر دور میں یہی شیوہ رہا ہے کہ انہوں نے اپنے انبیاء کا مذاق اڑایا، اور انجام کار جس عذاب کا انہوں نے مذاق اڑایا وہ ان پر مسلط کردیا گیا۔
آیت (42) میں نبی کریم سے کہا گیا ہے کہ آپ ذرا ان مذاق اڑانے والوں سے پوچھیے تو سہی کہ جس عذاب کے تم مستحق ہو، اگر اللہ تم پر وہ عذاب اتارنا چاہے تو تمہیں کون بچا سکے گا؟ اس کے بعد فورا ہی ان کے حال پر ماتم کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ وہ قبول حق سے اتنا دور جاچکے ہیں کہ ان نصیحتوں کا ان پر کوئی مفید اثر پڑنے والا نہیں ہے۔
آیت 43) کا تعلق گزشتہ مضمون سے ہی ہے کہ کیا مشرکین مکہ جھوٹے معبود اس عذاب سے انہیں بچا سکیں گے؟ حالانکہ ان کے اندر اتنی بھی قدرت نہیں ہے کہ وہ کود اپنی مدد کرسکیں، یا کوئی اور ہے جو ان کافروں کو ہمارے عذاب سے بچا سکے؟ جواب ظاہر ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ انہیں عذاب میں مبتلا کرنا چاہے تو آسمان و زمین میں کوئی نہیں جو انہیں اس سے بچا سکے۔