(3) حافظ ابن کثیرنے " ذات الحبک" کی تفسیر ابن عباس (رض) سے " ذات الجمال وا لبھاء و الحسن والا ستواء" نقل کی ہے اور کہا ہے کہ یہی قول مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر اور قتادہ وغیر ہم کا بھی ہے، یعنی حسین و جمیل اور ستاروں سے مزین آسمانوں کی قسم اور ضحاک نے اس کی تفسیر " ذات الطرائق" کی ہے، یعنی اس آسمان کی قسم جس میں لہریں اور دھاریاں بنی ہوئی ہیں، جیسے موتی اور ہیرے سے مزین کپڑے میں دھاریاں بن جاتی ہیں، حسن بصری کا ایک قول ہے کہ " ذات الحبک" سے مراد ساترے ہیں، یعنی ستاروں سے مزین آسمان کی قسم۔
ان تمام اقوال کا خلاصہ ایک ہی چیز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آسمان کی قسم کھائی ہے جو بڑا ہی حسین و جمیل اور ستاروں سے مزین ہے اور ایسی قسم اہل مکہ کے کردار کی شناعت و قباحت بیان کرنے کے لئے کھائی ہے، کہ اے کفار مکہ ! تم قرآن کریم اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عداوت میں کس قدر اخلاقی گراوٹ میں مبتلا ہوگئے ہو کہ جو چاہتے ہو ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اتہام دھرتے ہو، کبھی انہیں شاعر کہتے ہو، کبھی ساحر کہتے ہو اور کبھی مجنون اور پاگل کہتے ہو، جیسے آسمان میں جگمگاتے ستاروں سے مختلف لہریں اور دھاریاں بنی معلوم ہوتی ہیں، ویسے ہی تم ہمارے نبی کے بارے میں متناقض اور بے بنیاد باتیں کرتے رہتے ہو۔
آیت (9) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس قرآن پر ایمان لنے سے وہی شخص محروم کیا جاتا ہے جو اللہ کی تقدیر کے مطابق ایمان سے محروم، گم گشتہ راہ اور فکر وفہم سے عاری ہوتا ہے، امام شوکانی نے (یوفک عنہ من افک) کی ایک تفسیر یہ بیان کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں متناقض اور بے بنیاد باتیں کرنے سے وہی شخص بچتا ہے جسے اللہ اپنی توفیق سے ایسی کافرانہ باتوں سے بچاتا ہے۔