(20) حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو بتایا کہ ان کا رب وہ ہے جس نے ساری مخلوقات کو پیدا کیا ہے، انہیں روزی دی ہے، اور انہیں زندگی گزارنے کا طریقہ سکھا دیا ہے تو وہ لاجواب ہوگیا اور شکست خوردہ ہو کر کہنے لگے پھر ان اقوام گزشتہ کے بارے میں تم کیا کہو گے جو بتوں کی پوجا کرتی تھیں، جیسے نوح، ہود، لوط اور صالح کی قومیں جو ایک اللہ پر ایمان نہیں لائیں اور بتوں کی پرستش کرتی ہوئی دنیا سے رخصت ہوگئیں؟ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ ان تمام قوموں کے اعمال کا اللہ کو پورا علم ہے، ان کا ہر قول و عمل ان کے نامہ ہائے اعمال میں محفوظ ہے اور وہ روز قیامت انہیں ان کا بدلہ چکائے گا۔ میرے رب کا دائرہ علم سے کوئی ادنی چیز بھی خارج نہیں ہے، اور نہ ہی اس پر نسیان طاری ہوتا ہے، میرا رب ان دونوں عیوب اور دیگر تمام نقائص سے یکسر پاک ہے، میرا رب وہ ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے فرش بنا دیا ہے تاکہ تم اس پر زندگی گزار سکو اور میرا رب وہ ہے جس نے زمین پر تمہارے لیے راستے ہموار کردیئے ہیں تاکہ تم ایک جگہ سے دوسری جگہ جاسکو، اور میرا رب وہ ہے جو آسمان سے بارش نازل کرتا ہے جس سے نہریں بنتی ہیں اور کنویں بھرتے ہیں۔
موسیٰ (علیہ السلام) کا جواب ختم ہوجانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو اپنی وحدانیت پر ایمان لانے کی نصیحت کے طور پر فرمایا کہ ہم ہی اس پانی کے ذریعہ انواع و اقسام کے پودے، پھل اور درخت وغیرہ پیدا کرتے ہیں جو رنگ، مزا بو اور دیگر اوصاف و خصائص میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں، اس لیے عقل تقاضا کرتی ہے کہ تم ہم پر ایمان لے آؤ، اور ان پودوں اور پھلوں میں سے جو تمہارے کھانے کے ہیں انہیں خود کھاؤ، اور جو تمہارے جانوروں کے لیے ہیں انہیں کھلاؤ، مذکور بالا تمام اعمال اس بات کی دلیل ہیں کہ ہم ہر بات پر قادر ہیں، ہمارا علم ہر شے کو محیط ہے اور ہماری رحمت تمام مخلوقات کو شامل ہے، اس لیے صرف ہم ہی عبادت کے مستحق ہیں لیکن ان دلائل سے صرف اہل عقل و دانش ہی مستفید ہوتے ہیں۔