فهرس الكتاب

الصفحة 6343 من 6343

(1) اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے سینوں میں وسوسہ پیدا کرنے والے شیطان کے شر سے پناہ مانگنے کی تعلیم دی ہے اور یہ چیز ان چاروں چیزوں سے زیادہ خطرناک ہے جن کے شر سے پناہ مانگنے کی تعلیم سورۃ الفلق میں دی گئی ہے، اس لئے کہ شیطان ہی (چاہے وہ جنوں کا شیطان ہو یا انسانوں کا) تمام برائیوں کی جڑ اور ان کا منبع ہے وہی لوگوں کے دلوں میں وسوسہ پیدا کرتا ہے ان کی نگاہوں میں برائیوں کو خوبصورت بنا دیتا ہے اور ان کو کر گذرنے کے لئے ان کے ارادوں کو مہمیز لگاتا ہے اور بھلائی کے کام کرنے سے ان کی ہمت کو پست بناتا ہے اور نیکی کے کاموں کو ان کی نگاہوں میں بدشکل بنا کر پیش کرتا ہے اور شیطان اپنے اس کام میں ہر وقت لگا رہتا ہے ہمہ دم وسوسہ پیدا کرتا رہتا ہے اور جب بندہ مومن اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور اس کے ذریعہ شیطان کے وسوسہ سے پناہ مانگتا ہے تو شیطان فوراً پیچھے ہٹ جاتا ہے اس لئے آدمی کو چاہئے کہ اللہ سے مدد اور شیطان کے وسوسے سے اس کی پناہ مانگتا رہے، جو تمام انسانوں کا رب ہے، ان کا حقیقی بادشاہ ہے، اور ان کا تنہا معبود ہے۔ اس کے سوا کوئی رب نہیں اور نہ اس کے سوا کوئی بادشاہ ہے اور نہ کوئی معبود حقیقی۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے میرے نبی ! آپ کہہ دیجیے کہ میں لوگوں کے بر کی جناب میں پناہ لیتا ہوں، لوگوں کے شاہ حقیقی کی جناب میں لوگوں کے تنہا معبود کی جناب میں لوگوں کے سینوں میں وسوسہ پیدا کرنے والے شیطان کے شر سے اور اس شیطان کی صفت یہ ہے کہ آدمی جب اپنے رب کی یاد سے غافل ہوتا ہے تو وہ اس کے دل میں وسوسہ پیدا کرتا ہے اور جب غفلت سے چوکنا ہوتا ہے اور اپنے رب کو یاد کرتا ہے تو وہ شیطان فوراً پیچھے ہٹ جاتا ہے اور چھپ جاتا ہے اور وہ شیطان جنوں میں سے بھی ہوتا ہے اور انسانوں میں سے بھی

صحیح مسلم کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:" تم میں سے ہر ایک کے ساتھ اس کا ساتھی شیاطن لگا رہتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ! کیا آپ کے ساتھ ہوتا ہے ؟ آپ نے کہا:" ہاں، لیکن اللہ تعالیٰ نے میری مدد فرمائی ہے اور وہ مسلمان ہوگیا ہے، اس لئے وہ مجھے صرف بھلائی کا حکم دیتا ہے۔ "

اور صحیح بخاری میں انس (رض) سے مروی ہے کہ ام المومنین صفیہ (رض) سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آپ کے اعتکاف کی جگہ میں زیارت کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے ساتھ رات کے وقت نکلے تاکہ انہیں ان کے گھر تک پہنچا دیں۔ راستے میں دو انصاری سے ملاقات ہوگئی۔ دونوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھ کر تیز تیز چلنا شروع کیا تو آپ نے کہا:" ٹھہرو ! یہ صفیہ بنت حی ہے" دونوں نے کہا: سبحان اللہ، یا رسول اللہ ! تو آپ نے کہا:" شیطان، ابن آدم کے خون کے ساتھ اس کی رگوں میں دوڑتا رہتا ہے اور مجھے ڈر ہوا کہ کہیں وہ تم دونوں کے دلوں میں کوئی برائی نہ ڈال دے۔ "

اور امام احمد نے ابو ذر غفاری (رض) سے روایت کی ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مسجد میں آیا اور بیٹھ گیا، تو آپ نے فرمایا:" اے ابو ذر ! کیا تم نے نماز پڑھی؟" میں نے کہا: نہیں آپ نے کہا " اٹھو اور نماز پڑھو" ابوذر کہتے ہیں کہ میں نے اٹھ کر نماز پڑھی پھر بیٹھ گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا " اے ابو ذر ! انسانوں اور جنوں کے شیاطین کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو" تو میں نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا انسانوں میں بھی شیاطین ہوتے ہیں؟ آپ نے فرمایا:" ہاں"

اور حسن بصری کا قول ہے: جنوں کا شیطان لوگوں کے سنیوں میں وسوسہ پیدا کرتا ہے، لیکن انسانوں کا شیطان تو کھل کر سامنے سے آتا ہے اور قتادہ کہتے ہیں کہ شیاطین جنوں میں بھی ہوتے ہیں اور انسانوں میں بھی، پس تم جنوں اور انسانوں کے شیاطن سے اللہ کی پناہ مانگتے رہو۔

والحمد للہ رب العالمین اولاواخر و ظاہرا وباطنا اللہ رب العالمین کا شکر ہے کہ محض اس کی توفیق سے آج بروز جمعرات بوقت صبح مطابق 8 محرم الحرام 1421 ھ یہ تفسیر مکمل ہوگئی۔

اے میرے اللہ ! تو نے جس طرح مجھے اس کی تکمیل کی توفیق ارزانی بخشی ہے، مجھ پر یہ بھی احسان کر کہ اسے قبول فرما لے، اسے میرے لئے ذخیرہ آخرت بنا دے اور اس کی تحریر و تالیف میں میں نے جو محنت و مشقت اٹھائی ہے، اس کا دونوں جہان میں مجھے اچھا سے اچھا بدلہ دے۔ آمین

میرے اللہ ! تو میری اس تفسیر کو قبول عام عطا فرمایا اور جب تک آفتاب و ماہتاب گردش میں رہیں تو اسے مسلمانوں کے درمیان مفید و نافع بنا کر باقی رکھ

میرے مولیٰ! تو اس کنیک کام کو محض اپنی رضا کے لئے بنا دے اور اگر میرے دل میں کبھی کوئی ایسی بات گذری جو اخلاص کے خلاف تھی، یا اس تفسیر میں میرے قلم نے کوئی ایسی بات لکھ دی ہے جو تیری مراد کے مطابق نہیں ہے، تو مجھے معاف کر دے، میں نے وہی لکھا ہے جسے حق سمجھا ہے، اس لئیاگر کوئی غلطی ہوگئی ہے تو اسے تو معاف کر دے اور اسے قبول فرما لے۔

اے خالق کون و مکان ! میں تیری ان گنت تعریف باین کرتا ہوں اور اس احسان عظیم پر تیرا بے شمار شکر ادا کرتا ہوں اور درود و سلام بھیجتا ہوں تریے رسول پر، ان کی آل پر، اور ان کے اصحاب کرام پر

اللہ کا شکر ہے کہ آج بروز جمعہ بعد نماز عصر مطابق 8 جمادی الاولی 1421 ھ بمقام حرم مکی اس کی طباعت کی تصحیح کا کام بھی مکمل ہوگیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت